October 11, 2026

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی )جمعیت علماء اسلام سٹی سکھر نے محکمہ ریلوئے سکھر ڈویژن

IMG-20261007-WA0159

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی )جمعیت علماء اسلام سٹی سکھر نے محکمہ ریلوئے سکھر ڈویژن کی جانب سے ریلوئے ایراضی پر عرصہ کئی دہائیوں سے رہائش پزیر افراد کو بے گھر کئے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ریلوئے سکھر ڈویژن کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے یہ اعلان گزشتہ روز جمعیت علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا سائیں مفتی سعود افضل ہالیجوی مولانا محمد عابد سندھی امیر جمعیت علماء اسلام تعلقہ سٹی سکھر قاری لیاقت علی مغل جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام تعلقہ سٹی سکھر قاری محمد رفیق بندھانی پریس ترجمان جمعیت علماء اسلام تعلقہ سٹی سکھر و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ریلوئے سکھر ڈویژن کے افسران ریلوئے پولیس کیساتھ ملکر بدمعاشیوں پر اتر آئے ہیں انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرصہ کئی دہائیوں سے رہائش پزیر افراد کو عدالتی احکامات کی آڑ میں بے گھر کیا جارہا ہے، روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والوں نے غریب عوام سے روٹی کپڑا مکان کا حق بھی چھین لیا ہے ،رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کورٹ کا حکم صرف غریب عوام کے لیے ہے لیکن ریلوے ٹریک کیساتھ تعمیر ہونے والے بڑے بڑے فلیٹ اور بنگلے محکمے کو نظر نہیں آ تے ہیں ، چالیس پچاس سال سے آ باد غریب لوگوں کے گھر مسمار کرنا اور انہیں جبری بے دخل کرنا انتہائی ظلم ہے اس طرح جبری بے دخلی کی وجہ عوام اپنے معصوم بچوں عورتوں اور بیمار بزرگ کو لیکر کہا۔ جائینگے ،افسران عدالتی احکامات کی آڑ لیکر زبردستی گھروں کا سامان روڈ پر پھینک رہے ہیں جمعیت علماء اسلام ایسے عوامی دشمن عمل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، ڈی ایس ریلوئے، میئر سکھر اور سکھر کے منتخب کو نمائندوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ غریب عوام کو بے گھر کرنے والے عمل کا نوٹس لیکر انہیں عوامی وعدوں کے مطابق روٹی کپڑا اور مکان دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور اگر انہیں بے دخل کرنا ہے تو انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے اہلخانہ کیساتھ رہائش اختیار کر سکیں بصورت دیگر حکومت وقت و منتخب عوامی نمائندوں نے نوٹس نا کیا تو جمعیت علماء اسلام تعلقہ سٹی سکھر بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی جس کی تمام تر زمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔