October 15, 2026

ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کا آپریشن، مکینوں کا احتجاج؛ مبینہ وصولیوں اور مخصوص کوارٹرز کے خلاف کارروائی کے الزامات

IMG-20261003-WA0201

ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کا آپریشن، مکینوں کا احتجاج؛ مبینہ وصولیوں اور مخصوص کوارٹرز کے خلاف کارروائی کے الزامات

سکھر (بیورورپورٹ)ڈی ایس آفس کے قریب واقع ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کے لیے ریلوے پولیس، متعلقہ عملے اور افسران کی جانب سے آپریشن جاری ہے، جس کے باعث کوارٹرز میں رہائش پذیر مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔کارروائی کے دوران ریلوے حکام کی جانب سے بعض کوارٹرز خالی کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ مکینوں نے کارروائی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے مذکورہ ریلوے کوارٹرز میں رہائش پذیر ہیں اور کئی برسوں سے یہاں اپنے اہلخانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔ ان کے مطابق اچانک کوارٹرز خالی کرانے کی کارروائی سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں اپنے اہلخانہ سمیت بے دخلی کا خدشہ لاحق ہے۔مکینوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی ایس آفس سے وابستہ بعض افراد نے مبینہ طور پر ان سے مختلف اوقات میں رقم بھی وصول کی، تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات اور شواہد فراہم نہیں کیے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر کوارٹرز غیر قانونی طور پر زیرِ استعمال تھے تو متعلقہ حکام کی جانب سے پہلے ہی واضح اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔متاثرین نے مزید دعویٰ کیا کہ ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کی موجودہ کارروائی تمام رہائشی کوارٹرز کے خلاف یکساں طور پر نہیں بلکہ مخصوص کوارٹرز کے خلاف کی جا رہی ہے، جس پر انہوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں کارروائی کے قانونی جواز، نوٹسز اور کوارٹرز خالی کرانے کی وجوہات سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے اعلیٰ ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے الزامات کی بھی چھان بین کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کے تحفظات دور کیے جائیں۔دوسری جانب ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کے معاملے پر ریلوے حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ ریلوے حکام کی جانب سے کارروائی کی وجوہات، قانونی حیثیت اور مکینوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔