سکھر(بیورورپورٹ)حسینی روڈ پر ترقیاتی کام یا بدانتظامی، تین ماہ میں تین بار سڑک اکھاڑ دی گئی،
سکھر(بیورورپورٹ)حسینی روڈ پر ترقیاتی کام یا بدانتظامی، تین ماہ میں تین بار سڑک اکھاڑ دی گئی، سیوریج اور واٹر سپلائی لائنوں کی تنصیب سست روی کا شکار، اہم کاروباری سڑک طویل عرصے سے بند، تاجر دکانیں خالی کرنے پر مجبور، ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم خبر کے مطابق گھنٹہ گھر کے قریب واقع سکھر کی اہم کاروباری شاہراہ حسینی روڈ پر ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی تاخیر اور مبینہ ناقص منصوبہ بندی نے تاجروں اور شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے سیوریج اور واٹر سپلائی کی نئی پائپ لائنوں کی تنصیب کے باعث سڑک طویل عرصے سے مکمل نہ ہوسکی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے سے متعدد دکاندار مبینہ طور پر اپنی دکانیں خالی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ذرائع کے مطابق حسینی روڈ پر سڑک کو صرف تین ماہ کے دوران مبینہ طور پر تین مرتبہ تعمیر کرنے کے بعد دوبارہ اکھاڑ دیا گیا، جس سے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور مختلف محکموں کے درمیان مبینہ عدم رابطے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیوریج اور پانی کی لائنوں کی تنصیب پہلے ہی ضروری تھی تو سڑک کی تعمیر بار بار کرنے کی بجائے تمام زیرِ زمین کام پہلے مکمل کیے جانے چاہئیں تھے۔علاقہ مکینوں اور تاجروں کے مطابق پائپ لائنوں کی تنصیب کا کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے، جس کے باعث سڑک طویل عرصے سے آمدورفت کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ تعمیراتی رکاوٹوں، کھدائی اور متبادل راستوں کے باعث نہ صرف شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے بلکہ حسینی روڈ کے تاجروں کی کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں دوسری جانب سڑک پر موجود تجاوزات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ترقیاتی کاموں کے باعث پہلے ہی محدود ہونے والی گزرگاہ میں تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہتی ہےجبکہ شہریوں کو پیدل آمدورفت میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے واٹر سپلائی کی نئی لائنوں کی تنصیب کو شہریوں کو صاف پانی کی بہتر فراہمی کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی سہولت کے نام پر شروع کیے گئے یہ میگا منصوبے اگر طویل عرصے تک نامکمل رہیں تو یہی سہولت شہریوں کے لیے زحمت بن جاتی ہے تاجروں اور شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حسینی روڈ کے ترقیاتی کام کی رفتار کا فوری جائزہ لیا جائے، کام کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور سڑک کو جلد از جلد مکمل کرکے ٹریفک کے لیے بحال کیا جائے، تاکہ متاثرہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔