October 2, 2026

*کراچی سے علم آٹھ گیا* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

IMG-20261002-WA0217

*کراچی سے علم آٹھ گیا*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

جناب فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اور آپکے رفقائے کار جنرل حضرات یوں لگتا ھے کہ آپکے ادارے باخبر رہنے والے اللہ اور اسکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کو بھول گئے یا فراموش کرگئے کہ حق و سچ بتانے سے قاصر اور معذور نظر آرھے ہیں، کراچی کی قسمت اور یہاں کے طالب علموں کا نصیب دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ھوں کہ شائد کراچی سے علم آٹھ گیا، یہاں کے طالبعلم اول نمبر کے بے علم ، ناکارہ، نااہل، ناقص ہیں، ان میں اتنی بھی صلاحیت قابلیت ذہانت اہلیت تک نہیں کہ ایک گریڈ کے قاصد تک کی نوکری کی اہل ہوں۔ آپ اور آپ کے رفقائے کاروں کو بحیثیت مسلمان اللہ تبارک وتعالیٰ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم کو جواب دینا ہوگا کہ ان خبیث و شیاطین و ابلیس و دجالیوں کے آگے سر بجود کیوں ہوئے کیا تمہارے سامنے حق و باطل کے معرکے موجود نہیں تھے کیا تم نے واقعہ کربلا نہیں جانا کہ روئے زمین پر سب سے بڑا حق و سچ اور حق و باطل کے درمیان پیش آیا کیا تم نے کچھ سیکھا نہیں، بات صرف یہ ھے کہ جمہوریت کا آلاپ لگانے والوں نے صرف ملک کو لوٹا اور برباد ہی کیا ھے ہر ایک سیاستدان نے جھوٹ اور منافقت کی کوئی حد نہیں چھوڑی۔ یہی سبب ھے کہ خود کو معتبر و اعلیٰ اور بادشاہ نفسیاتی و عملی سمجھنے والوں نے آج نظام جمہوریت کو انتہائی بدترین مقام تک پہنچا دیا ھے اب وقت کا شدید تقاضہ اور ضرورت اس امر کی ھے کہ سب سے پہلے نظام کی تبدیلی کی جائے اور ساتھ ساتھ کراچی کیساتھ ناروا سلوک کو فی الفور بند کیا جائے اس بابت شریعت اور سپریم کورٹ کو بھی اپنی آئینی اخلاقی اور مذہبی کردار ادا کرنے کی شدید ضرورت ہے، سپریم کورٹ ہو یا ہائی کورٹ تمام کے تمام ججز رب العزت کو جوابدہ ہیں اس لئے انہیں بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ناانصافی اور ظلم و بربریت و حق تلفی کا عمل کسی کیساتھ بھی نہ رکھا جائے۔ اٹھہتر سالوں سے جاری ملک بھر سے کوٹہ سسٹم کا عمل فی الفور خارج کیا جائے کیونکہ اس عمل سے ناانصافی، حق تلفی اور اہلیت و قابلیت اور ذہانت کو دفن کرنے کے مترادف ھے جو ملک و قوم کو کھوکھلا اور تباہی و برباد کرنے کیلئے خطرناک پوشیدہ خاموش ہتھیار بھی ھے یہ عمل ملک غداری کے زمرے میں بھی آتا ھے۔ کراچی شہر میں یوں تو ملک بھر کے باشندے آ آ کر آباد ہوتے رہے ہیں جو تاحال آبادی کا سلسلہ جاری ھے، انکی آباد کاری مکمل غیر قانونی اور غیر آئینی رہی ھے یہی سبب ھے کہ غیر منظم اور غیر قانونی طریقہ کار سے مسائل در مسائل ہی جنم لئے اور اسکا تدارک کے متعلق کوئی سنجیدہ نہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین میں وہی ہیں جو قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی اور ریاستی اصولوں کی پاسداری کر رھے ہیں۔ کیا اسٹبلشمنٹ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اور انکے رفقائے کاروں جنرلز حضرات اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نہیں، اگر واقف ہیں تو خدارا بحیثیت مسلمان امتی محمدی اور پاکستانی کراچی شہر پر سنجیدگی اور مخلصانہ توجہ فرمادیں یاد رکھئے کہ کراچی کا کوئی بھی سیاسی جماعت ہو یا حکمران کوئی بھی مخلص نہیں، اور نہ ہی کراچی کیلئے ہمدرد یہ صرف اپنی ذات مفادات اور خودغرضی میں ڈوبے ہوئے ہیں، یاد رکھئے کراچی شہر کو تن تنہا مظلوم و مجبور اور مستحق شہر سمجھئے گا انکے حوالے مت کیجئے گا کیونکہ ساری صورتحال اور سچائی یقیناً آپ اور آپکے رفقائے کار جنرلز اور جسٹس صاحبان بخوبی جانتے ہونگے۔ بہت ہوگئی ان سے رعایت کی، اب آپ تحمل صبر کے بجائے عملی اقدام کرتے دکھائیں دیں اللہ ہر اس کا حامی و ناظر رھتا ھے جو سچائی و حق کیساتھ اور وطن عزیز سے مخلص جڑا ھو۔ہمیں اور آپ سب مقتدران کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے، امتحانات دینے اور اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے باوجود صرف اس لیے مواقع سے محروم ہوجائے کہ وہ کسی مخصوص علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تو اس کے دل میں ریاست، نظام اور مستقبل کے بارے میں کیا احساس پیدا ہوگا؟ میرٹ کسی شہر، زبان یا صوبے کا دشمن نہیں ہوتا؛ میرٹ دراصل ریاست کی طاقت ہوتا ہے۔ کوٹہ سسٹم کے بارے میں ملک میں مختلف آرا موجود ہیں۔ اس نظام کے حامی تاریخی اور علاقائی محرومیوں کو اس کا جواز قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کا طویل عرصے تک جاری رہنا میرٹ اور مساوی مواقع کے اصولوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ شفاف، غیرجانبدارانہ اور اعداد و شمار پر مبنی قومی جائزے کی ہے کہ موجودہ نظام نے کن مقاصد کو حاصل کیا، کہاں کامیاب رہا اور کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کا سوال بالکل واضح ہے: اگر قابلیت موجود ہے تو موقع بھی ملنا چاہیے۔کسی طالب علم کو محض اس بنیاد پر کمتر سمجھنا کہ وہ کراچی سے تعلق رکھتا ہے، نہ انصاف ہے اور نہ قومی مفاد۔ اسی طرح کسی دوسرے صوبے یا علاقے سے آنے والے پاکستانی شہری کو محض اس کی شناخت کی بنیاد پر دشمن سمجھنا بھی درست نہیں۔ پاکستان سب کا ہے اور اس کے تمام شہری برابر عزت، قانون اور بنیادی حقوق کے مستحق ہیں۔کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق، اصول اور انصاف کی بات حالات کی سختی دیکھ کر ترک نہیں کی جاتی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کو محض تاریخ کا واقعہ سمجھنے کے بجائے اس کے اخلاقی پیغام—حق، عدل، اصول اور ظلم کے خلاف استقامت—کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک مسلمان کے لیے قرآن و سنت بنیادی اخلاقی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ظلم، ناانصافی، حق تلفی اور میرٹ کی پامالی کسی بھی معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو اور کسی شہری کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔ کراچی میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کا آکر آباد ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ کراچی نے ہمیشہ لوگوں کو روزگار، کاروبار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ لیکن شہری آبادی میں اضافے کے ساتھ منصوبہ بندی، رہائش، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، روزگار اور بلدیاتی سہولیات کے مسائل بھی بڑھے ہیں۔ ان مسائل کا حل کسی لسانی یا علاقائی تقسیم میں نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر بلدیاتی نظام میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کو کسی سیاسی جماعت کا انتخابی میدان یا کسی حکمران کی جاگیر سمجھنے کے بجائے ایک قومی معاشی شہر کے طور پر دیکھا جائے۔ کراچی کے شہری یہ سوال بھی پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس شہر سے قومی خزانے میں بھاری حصہ آنے کے باوجود یہاں بنیادی شہری سہولیات کیوں مسلسل بحران کا شکار رہتی ہیں؟ پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، ٹرانسپورٹ، سڑکیں، تعلیم، صحت، روزگار اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل کا مستقل حل کیوں نہیں نکلتا؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، تمام سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، انتظامی اداروں اور متعلقہ ریاستی اداروں سے ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے معزز ججز بھی آئین اور قانون کے محافظ ہیں۔ عدلیہ کا بنیادی فریضہ یہی ہے کہ شہریوں کے آئینی حقوق، مساوات اور قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنانے میں اپنا آئینی کردار ادا کرے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی ہو تو اسے مؤثر قانونی داد رسی میسر ہونی چاہیے۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں ملک نے مختلف نظام، پالیسیاں اور انتظامی تجربات دیکھے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے زیادہ قانون، میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دیں۔ نظام کی تبدیلی اگر ضروری سمجھی جائے تو وہ آئینی، قانونی، جمہوری اور عوامی طریقے سے ہونی چاہیے۔ کسی بھی نظام کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں، نوجوان کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے یا نہیں، اور ریاست اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کر رہی ہے یا نہیں۔میں یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کراچی کسی ایک زبان، نسل، جماعت یا طبقے کا شہر نہیں۔ کراچی ان تمام پاکستانیوں کا شہر ہے جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہاں آباد ہیں اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کے مستقل شہریوں اور یہاں کے نوجوانوں کے جائز حقوق، تعلیم، روزگار اور شہری سہولیات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا میری ذمہ دارانِ ریاست، حکومت، سیاسی قیادت، عدلیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مؤدبانہ مگر دوٹوک گزارش ہے: کراچی کو سنجیدگی سے دیکھیے۔ اس کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیجیے۔نوجوانوں کے لیے میرٹ پر مواقع پیدا کیجیے۔ کوٹہ سسٹم سمیت تمام پالیسیوں کا غیرجانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیجیے۔ بلدیاتی اداروں کو مؤثر اختیارات اور وسائل دیجیے۔ غیرقانونی تجاوزات، زمینوں پر قبضوں اور غیرمنظم شہری پھیلاؤ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کیجیے۔ اور سب سے بڑھ کر کراچی کو سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کی نظر سے دیکھیے۔ کراچی کو کسی مسیحا کی نہیں، منصفانہ نظام، دیانت دار انتظام، میرٹ اور قانون کی بالادستی کی ضرورت ہے۔ یہ شہر تھکا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوا۔ اس کے نوجوان آج بھی ذہین ہیں، باصلاحیت ہیں، محنتی ہیں اور آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں۔ آئیے کراچی کے نوجوان سے یہ نہ کہیں کہ تم نااہل ہو؛ بلکہ ایسا نظام بنائیں جو اسے یہ ثابت کرنے کا مساوی موقع دے کہ وہ کتنا اہل ہے۔ یہی انصاف ہے، یہی ریاستی ذمہ داری ہے اور یہی پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام، عدل، میرٹ اور حقیقی خوشحالی عطا فرمائے، اور ہر صاحبِ اختیار کو اپنے منصب کی ذمہ داری دیانت اور انصاف کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔