September 29, 2026

ڈہرکی(رپورٹ:ملک بشیراحمد)ڈہرکی گزشتہ رات خانپور مہر سے اغوا ہونے والے سینئر صحافی عظیم

IMG-20260929-WA0141

ڈہرکی(رپورٹ:ملک بشیراحمد)ڈہرکی گزشتہ رات خانپور مہر سے اغوا ہونے والے سینئر صحافی عظیم سیال کے اغوا کے خلاف ایوانِ صحافت پریس کلب ڈہرکی کی جانب سے سینئر صحافی وزیر احمد مہر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تفصیل کے مطابق : ایوانِ صحافت پریس کلب ڈہرکی کی جانب سے منعقد کیے گئے احتجاج میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اس موقع پر سینئر صحافی عظیم سیال کے اغوا کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ عظیم سیال کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کرایا جائے اس موقع پر سینئر صحافی وزیر احمد مہر، زاہد علی بھٹو، محمد فہیم علی شیخ اور فاروق احمد کوبھر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اپنے قلم کے ذریعے مظلوم عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اور عوام کی زبان بن کر ان کے مسائل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ صحافی عظیم سیال کا اغوا صرف تاوان کے لیے اغوا کا واقعہ نہیں بلکہ یہ ان سازشوں کی ایک کڑی ہے جن کے ذریعے عوام کی آواز بننے والے صحافیوں کی بلند ہوتی آواز کو دبانے اور صحافیوں کے قلم کو توڑنے کی ناکام کوششیں کی جاتی رہی ہیں صحافی رہنماؤں نے کہا کہ شہید جان محمد مہر، شہید نصراللہ گڈانی اور شہید طفیل رند کے قتل اور عظیم سیال کا اغوا بھی بقول ان کے، انہی سازشی عناصر اور قلم دشمن قوتوں کے ہتھکنڈوں کی کڑی ہے انہوں نے عظیم سیال کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں جلد از جلد بحفاظت بازیاب کرایا جائے اس موقع پر ایوانِ صحافت پریس کلب کے سرپرستِ اعلیٰ وزیر احمد مہر نے تمام صحافی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ صحافی اپنے تمام اختلافات بھلا کر آپس میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کریں، بصورتِ دیگر صحافیوں کو ایک ایک کرکے راستے سے ہٹایا جاتا رہے گا انہوں نے کہا کہ قلم دشمن عناصر کی ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے صحافیوں کا متحد اور متفق ہونا ضروری ہے صحافی عظیم سیال کے اغوا کے خلاف ہونے والے احتجاج میں ڈہرکی کے نوجوان صحافی محرم علی پنہیار، صبور علی کوبر، ملک بشیر احمد، حیدر علی اور منور لال سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا