September 28, 2026

پامسٹری کیا ہے اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟ پیر 28 ستمبر 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-09-28_185506.663

پامسٹری کیا ہے اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟

پیر 28 ستمبر 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

پامسٹری کی تعریفی حقیقت
پامسٹری (Palmistry)، جسے علمِ قیافہِ کف یا علمِ خطوطِ ہاتھ بھی کہا جاتا ہے، ہاتھ کی ہتھیلی پر موجود لکیروں، ابھاروں اور ساخت کا مطالعہ کرکے کسی انسان کی شخصیت، مزاج، ماضی اور مستقبل کے بارے میں پیشگوئی کرنے کا دعویٰ ہے۔

* تاریخی پس منظر: یہ علم ہزاروں سال پرانا ہے جو قدیم ہندوستان، چین، مصر اور یونان کی تہذیبوں میں رائج رہا ہے۔
* بنیاد: پامسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہتھیلی کی لکیریں انسان کی اندرونی صلاحیتوں اور قسمت کا نقشہ ہوتی ہیں۔ تاہم، سائنسی لحاظ سے اس کی کوئی معتبر اور مستند بنیاد موجود نہیں ہے؛ طبی اور سائنسی ماہرین اسے محض توہم پرستی یا نفسیاتی قیاس آرائی قرار دیتے ہیں۔
پامسٹری کی شرعی حیثیت
اسلامی شریعت میں پامسٹری، نجوم (ستاروں کا علم)، فال نکالنے اور اس قسم کے تمام علومِ غیبیہ کے دعوے داروں کے بارے میں احکامات بہت واضح اور سخت ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

* علمِ غیب کا دعویٰ: غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کے پاس ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَالۡأَرۡضِ الۡغَیۡبَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (النمل: 65)
“ترجمہ: کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں جتنے بھی ہیں، اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔”

جو شخص ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر مستقبل کی خبر دینے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفتِ غیب میں شریک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، جو کہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔

* کہین اور کاہن کا حکم: احادیثِ مبارکہ میں کاہنوں، نجومیوں اور غیب کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس جانے اور ان کی بات پر یقین کرنے سے سخت منع کیا گیا ہے

*سخت وعید: حضرت صفیہ بنتِ ابو عبید اپنے بعض ازواجِ مطہرات (امھات المؤمنین) سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» (صحیح مسلم: 2230)
“جو شخص کسی عراف (نجومی، فال دیکھنے والے یا پامسٹ) کے پاس گیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا، تو چالیس دن تک اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوگی۔”

* تصدیق کرنے کا کفر: سنن ابی داؤد اور مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ»
> “جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور جو کچھ اس نے کہا اس کی تصدیق کی (اس پر یقین کیا)، تو اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔”

اسلامی نقطہ نظر سے پامسٹری، ہاتھ کی لکیروں کے ذریعے مستقبل بتانا یا اس پر یقین رکھنا شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔ مسلمان کو اپنی تقدیر پر کامل ایمان رکھنا چاہیے کہ نفع اور نقصان، اور مستقبل کے تمام حالات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔

مزید فقہی وضاحت: پامسٹری، کہانت اور تنجیم کے احکام
فقہ اسلامی (خصوصاً حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مذاہب) میں پامسٹری اور اس جیسے تمام علوم (جیسے علمِ نجوم، رمل، فال اور جفر) کی بنیادوں، اس کے استعمال اور اس پر عمل کرنے والوں کے احکام کو انتہائی باریکی سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کی فقہی تفصیل درج ذیل ہے:

۱.کہانت (Kahana) اور عرافات (Arrafat) کی تعریف میں شمولیت
فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ہر وہ شخص جو مستقبل کی خبر دینے، چھپی ہوئی باتیں بتانے یا انسان کی قسمت کا حال معلوم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ کاہن یا عَرّاف کے حکم میں آتا ہے، چاہے اس کا ذریعہ ہاتھ کی لکیریں ہوں، ستارے ہوں، ریت پر لکیریں کھینچنا (رمل) ہو یا پرندوں کے اڑنے کے انداز دیکھنا ہوں۔

* علامہ ابن حجر عسقلانی اور دیگر محدثین و فقہاء لکھتے ہیں کہ کاہن وہ ہے جو مستقبل کے ہونے والے حالات کی خبر دینے کا دعویٰ کرے، اور عراف وہ ہے جو چوری شدہ چیز، گمشدہ مال یا انسانی جسم کی علامات (مثلاً ہاتھ کی لکیریں یا چہرے کے نقوش) سے ماضی یا مستقبل کا حال بتائے۔

* چونکہ پامسٹری بھی ہاتھ کی لکیروں کے ذریعے مستقبل یا پوشیدہ امور کا احوال معلوم کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے فقہی اعتبار سے یہ قطعی طور پر کہانت اور عرافات کی ذیل میں آتی ہے۔

۲.پامسٹری سے متعلق فقہی احکام اور ان کی درجات
فقہ اسلامی میں اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے الگ الگ احکام ہیں:

* بطورِ پیشہ یا فن سیکھنا اور سکھانا:
پامسٹری کو سیکھنا، سکھانا یا اس کا فن آگے بڑھانا شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔ فقہاءِ حنفیہ نے لکھا ہے کہ ایسے علوم کا حاصل کرنا جن میں غیب دانی کا دعویٰ ہو یا جن کی بنیاد توہم پرستی اور باطل عقائد پر ہو، شرعی طور پر ممنوع ہے۔ اس پیشے کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی بھی فقہی لحاظ سے مشتبہ اور خبیث شمار ہوتی ہے۔

* بطورِ تفریح یا شوق اپنانا:
بعض لوگ اسے محض شغل، تفریح یا تجسس کے طور پر دیکھتے ہیں (مثلاً صرف ہاتھ دکھا کر مذاق میں پوچھنا)۔

* حدیثِ مباركة میں گزرا ہے کہ محض پوچھنے کی صورت میں بھی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔

* فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کی نحوست کی وجہ سے عبادت کا ثواب ختم ہو جاتا ہے، اگرچہ اس پر فرض ساقط ہو جاتا ہے اور اسے قضا نہیں کرنی پڑتی۔ لیکن دل میں ذرا سا بھی یہ خیال لانا کہ یہ شخص سچ کہہ رہا ہے، دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر بن سکتا ہے۔

* حاکمِ وقت اور اسلامی عدالت کی ذمہ داری:

فقہِ اسلامی کی کتابوں میں یہ صراحت موجود ہے کہ اسلامی ریاست میں کاہنوں، نجومیوں اور پامسٹری کے اڈوں پر پابندی لگانا حاکمِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ ان لوگوں کو اس قبیح عمل سے روکنا اور سزائیں دینا ضروری ہے کیونکہ یہ عوام کے عقائد کو خراب کرنے اور ان کے اموال کو ناحق لوٹنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

۳.تقدیر پر ایمان اور تدبیر کی شرعی حدود
اسلامی عقیدے کے مطابق کائنات کا ایک ایک ذرہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے تحت چل رہا ہے۔ سورۃ اللیل اور دیگر مقامات پر واضح ہے کہ نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔

* تقدیر مبرم اور دعا کا اثر: احادیث سے ثابت ہے کہ صرف دعا اور اچھے اعمال تقدیر کو بدل سکتے ہیں (جیسا کہ حدیث میں ہے: «لا يرد القضاء إلا الدعاء» کہ تقدیر کو صرف دعا ہی ٹال سکتی ہے)۔

* ہاتھ کی لکیریں بدلنے کا دعویٰ کرنا یا یہ سمجھنا کہ ہاتھ کی لکیریں انسان کی زندگی کو طے کرتی ہیں، تقدیرِ الٰہی پر عدمِ اعتماد اور باطل نظریات کو فروغ دینا ہے۔ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان کی زندگی اس کے اچھے اعمال، توکل، محنت اور اللہ کی رضا پر منحصر ہے، نہ کہ ہاتھ کی چند لکیروں پر۔

الدعاَء:
یا اللہ کاہنوں اور نجومیوں کے شر سے محفوظ فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333