7

*ضلع لودھراں کی، پہلی خاتون ڈی پی او ( ایس پی بینش فاطمہ ) کا مکمل تعارف*

*ضلع لودھراں کی، پہلی خاتون ڈی پی او ( ایس پی بینش فاطمہ ) کا مکمل تعارف*

بینش فاطمہ 18 ستمبر 2017 کو Police Service of Pakistan (PSP) میں شامل ہوئیں ۔

ریکارڈ کے مطابق ان کا تعلق پنجاب کے علاقے چکوال سے ہے ۔

جنوری 2023 کے سرکاری گزٹ میں انہیں BS-17، Deputy Director FIA Cyber Crime Wing، Rawalpindi کے طور پر درج کیا گیا ہے ۔ بعد ازاں وہ BS-18 افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں

بینش فاطمہ نے اپنے پولیس کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد پولیس میں ASP کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ۔ ان کے کیریئر کا ایک اہم پہلو یہ رہا کہ انہوں نے روایتی پولیسنگ کے ساتھ ساتھ تحقیق ، تفتیش اور پالیسی سازی کے شعبوں میں بھی کام کیا۔

FIA Cyber Crime Wing — راولپنڈی

ان کے کیریئر میں FIA Cyber Crime Wing Rawalpindi کی تعیناتی بھی اہم رہی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق جنوری 2023 میں وہ یہاں Deputy Director کے عہدے پر فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعد ازاں دسمبر 2023 میں Establishment Division نے انہیں FIA سے واپس لے کر ان کی خدمات حکومت پنجاب کے سپرد کر دیں۔

بعد میں پنجاب پولیس میں واپسی انے کے بعد بینش فاطمہ نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور بالخصوص تفتیش اور جرائم کے خلاف کارروائی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

ان کی تفتیشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے سرکاری خبر رساں ادارے APP نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے بچوں کے قتل کے پیچیدہ کیسز ، پولیس شہداء کے قتل اور دیگر سنگین جرائم کے کیسز کو جدید تفتیشی طریقوں سے حل کیا۔

راولپنڈی میں انہوں نے کلر سیداں کے خطرناک ملزم وحید یاسین عرف وحیدی کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ملزم 2018 سے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب تھا اور راولپنڈی کے مضافاتی علاقوں میں مسلح گروہوں کو چلا رہا تھا۔ بینش فاطمہ کی ٹیم نے اس کے معاونین کو گرفتار کرکے اس کے جرائم پیشہ نیٹ ورک کو توڑا۔

اسی طرح راولپنڈی میں اغوا برائے تاوان کے ایک منظم گروہ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ APP کے مطابق سلمان اور پیؤالدین نامی ملزمان پاکستان بھر میں متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور جدید تفتیشی تکنیکوں کے ذریعے ان کا سراغ لگایا گیا۔

Organized Crime Unit کی پہلی خاتون سربراہ

بینش فاطمہ کے کیریئر کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں Organized Crime Unit کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون افسر بنیں۔

International Association of Chiefs of Police (IACP) کے مطابق ان کی قیادت میں پہلے ہی تین ماہ کے دوران 9 جرائم پیشہ گینگز کے خلاف کارروائی کی گئی اور متعدد سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے صرف کارروائیوں تک محدود رہنے کے بجائے یونٹ کے اندر anti-bias psychological testing، نئے تفتیش کاروں کی بھرتی، جدید ٹیکنالوجی اور tracing mechanisms کے بہتر استعمال اور جدید سہولیات پر مشتمل یونٹ کی تعمیر کی نگرانی جیسے اقدامات بھی کیے۔

خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے اقدامات

بینش فاطمہ نے پولیس میں خواتین کو درپیش عملی مسائل کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ IACP کے مطابق انہوں نے خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے childcare سہولیات، خواتین کے لیے بہتر پولیس سہولیات اور gender barriers ختم کرنے کے لیے پالیسی سازی پر کام کیا۔

ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خواتین افسران اور اہلکاروں کو پولیس سروس میں آگے بڑھنے کے لیے بہتر ماحول اور یکساں مواقع میسر آئیں۔

Tahaffuz Centre
خواجہ سرا افراد کے لیے پولیس سہولت

ان کی ایک نمایاں کاوش پنجاب میں پہلا Tahaffuz Centre قائم کرنا بھی ہے۔

یہ مرکز خواجہ سرا افراد کے لیے crime reporting، help desk اور پولیس معاونت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ IACP کے مطابق بعد میں یہاں transgender victim support officers کی پہلی ٹیم بھی بھرتی کی گئی۔

یہ اقدام پولیس اور معاشرے کے ایک ایسے طبقے کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کی کوشش تھی جو اکثر جرائم کی رپورٹنگ اور پولیس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔

Meesaq Centre — مذہبی اقلیتوں کے لیے پولیس سہولت

بینش فاطمہ نے اسلام آباد میں پہلا Meesaq Centre بھی قائم کیا، جو مذہبی اقلیتوں کے لیے پولیس help desk اور reporting centre کے طور پر کام کرتا ہے۔

اس اقدام کا مقصد اقلیتی برادریوں کو پولیس سے رابطے اور جرائم کی رپورٹنگ کے لیے ایک مخصوص اور قابلِ رسائی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام

IACP کی پروفائل کے مطابق بینش فاطمہ نے Pakistan Child Protection Bureau کے ساتھ مل کر تشدد کا شکار بچوں کے لیے awareness campaign اور support mechanism تیار کرنے پر بھی کام کیا۔
یہ ان کے پولیس کیریئر کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ صرف مجرموں کے خلاف کارروائی ہی نہیں بلکہ متاثرین کو بہتر مدد فراہم کرنے کو بھی پولیسنگ کا اہم حصہ سمجھتی ہیں۔
راولپنڈی کی پہلی خاتون CTO
2024 میں بینش فاطمہ کو Chief Traffic Officer Rawalpindi مقرر کیا گئی
اور وہ راولپنڈی کی پہلی خاتون CTO بنیں۔
یہ تعیناتی ان کے کیریئر میں ایک اور اہم سنگِ میل تھی، کیونکہ اس سے قبل راولپنڈی ٹریفک پولیس کی سربراہی کسی خاتون افسر کے پاس نہیں رہی تھی۔
2024 میں CTO Rawalpindi کی حیثیت سے ہی انہیں عالمی سطح پر بھی نمایاں کیا گیا۔
IACP 40 Under 40 — عالمی سطح پر پاکستان کا اعزاز
بینش فاطمہ کے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز 2024 IACP 40 Under 40 Award ہے۔
International Association of Chiefs of Police
ہر سال دنیا بھر سے 40 سال سے کم عمر ایسے 40 قانون نافذ کرنے والے افسران کا انتخاب کرتی ہے جنہوں نے قیادت، جدت اور پیشہ ورانہ خدمات میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہو۔
بینش فاطمہ کو یہ اعزاز امریکا کے شہر بوسٹن میں ہونے والی IACP کانفرنس میں دیا گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والی واحد پاکستانی خاتونئ پولیس افسر تھیں۔
یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستانی پولیس، بالخصوص پاکستانی خواتین پولیس افسران کے لیے بھی ایک اہم عالمی اعتراف تھا۔
Crime Control Department —
راولپنڈی
2025 میں بینش فاطمہ نے پنجاب کے Crime Control Department (CCD) میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ SP CCD Rawalpindi District کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔
CCD میں ان کی ذمہ داریوں کے دوران جرائم پیشہ عناصر، سنگین جرائم اور منظم جرائم کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز رہی۔
10 مئی 2026 — چکوال تعیناتی
بینش فاطمہ 10 مئی 2026 کو انہیں SP CCD Rawalpindi District سے تبدیل کرکے SP Operations-DIC3 Chakwal تعینات کیا گیا۔
یوں ان کے کیریئر میں چکوال بھی ایک اہم مرحلے کے طور پر شامل ہوگیا، جو ان کے آبائی ڈومیسائل سے بھی وابستہ ضلع ہے۔
9 اگست 2026 کو انہیں بطور ڈی پی او لودھراں تعینات کر دیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں