5

11 اگست کی تقریر — بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا عملدرآمد آج تک نہ ہوسکا

11 اگست کی تقریر — بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا عملدرآمد آج تک نہ ہوسکا
11 اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ تاریخی دن ہے جب بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جس کی بنیاد مذہبی آزادی، مساوات، انصاف، رواداری اور شہری حقوق پر قائم ہو۔ یہ تقریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک واضح قومی سمت اور ریاستی تصور تھا۔

قائداعظم نے اپنے تاریخی خطاب میں واضح کیا کہ ریاست میں ہر شہری کو اپنی عبادت گاہ میں جانے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ ان کا پیغام بالکل واضح تھا کہ کسی شہری کا مذہب، ذات، برادری یا عقیدہ اس کی شہریت کے حقوق میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

قائداعظم کے تاریخی الفاظ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں:

“آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے یا اس ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔”

یہ الفاظ ایک ایسے پاکستان کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر تمام شہری برابر کے حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں؛ جہاں قانون کی نظر میں کسی کو برتری یا کمتری حاصل نہ ہو؛ جہاں انسان کی شناخت اس کی شہریت اور کردار سے ہو۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے قائداعظم کے اس تصور کو عملی جامہ پہنایا؟

بدقسمتی سے اس سوال کا جواب آج بھی تشویش پیدا کرتا ہے۔

قیامِ پاکستان کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کو ہیں، مگر معاشرے میں مذہبی، معاشی، سیاسی اور سماجی عدم مساوات کے مسائل آج بھی موجود ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق، خواتین کے مساوی مواقع، غریب طبقات کے بنیادی حقوق، قانون کی یکساں عملداری اور شہری آزادیوں کے حوالے سے ہمیں اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

قائداعظم نے پاکستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ بنانے کی جدوجہد نہیں کی تھی۔ ان کا مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں شہری عزت، آزادی اور انصاف کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ مگر افسوس کہ ہم نے قائداعظم کے افکار کو اکثر تقریروں، سیمیناروں اور سرکاری بیانات تک محدود کر دیا ہے۔

ہر سال 11 اگست آتا ہے، قائداعظم کی تقریر دہرائی جاتی ہے، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے عہد کیے جاتے ہیں، لیکن اصل ضرورت عملدرآمد کی ہے۔

قائداعظم کے پاکستان کا مطلب یہ ہے کہ قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو۔ کسی غریب کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ کسی شہری کو اس کے مذہب، ذات یا عقیدے کی بنیاد پر محرومی کا سامنا نہ ہو۔ نوجوانوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔ خواتین کو باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور ہر پاکستانی کو اپنے مستقبل کے حوالے سے امید اور تحفظ کا احساس ہو۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قائداعظم کے تصورِ پاکستان پر عملدرآمد صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کے تمام اداروں، سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

11 اگست ہمیں صرف قائداعظم کی تقریر یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ اپنے قومی رویوں کا احتساب کرنے کا دن بھی ہے۔

ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ جس پاکستان کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، کیا ہم اس پاکستان کو وہی شکل دے سکے جس کا خواب بانیٔ پاکستان نے دیکھا تھا؟

اگر جواب نفی میں ہے تو مایوس ہونے کے بجائے ہمیں دوبارہ آغاز کرنا ہوگا۔

قائداعظم کے الفاظ کو کتابوں سے نکال کر عملی زندگی میں لانا ہوگا۔ مساوات کو قانون کا حصہ ہی نہیں بلکہ معاشرتی رویہ بنانا ہوگا۔ مذہبی آزادی کو صرف آئینی شق نہیں بلکہ ہر شہری کا عملی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ انصاف کو مراعات یافتہ طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا ہوگا۔

پاکستان قائداعظم کا دیا ہوا ایک عظیم امانت ہے، اور اس امانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کے نظریات کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان پر عمل بھی کریں۔

11 اگست کی تقریر آج بھی ہمارے سامنے ایک آئینہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ قائداعظم نے ہمیں راستہ نہیں دکھایا؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس راستے پر چلنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔

وقت آگیا ہے کہ 11 اگست کو صرف ایک تاریخی دن کے طور پر نہیں بلکہ قائداعظم کے تصورِ پاکستان پر عملدرآمد کے نئے عزم کے طور پر منایا جائے۔

کیونکہ قومیں صرف اپنے عظیم رہنماؤں کے اقوال پر فخر کرنے سے نہیں بنتیں، بلکہ ان کے اصولوں کو اپنی ریاست، سیاست اور معاشرت میں نافذ کرنے سے بنتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں