3

درسگاہیں، ڈگریاں اور روحانی رشتوں کے جنازے باب العلم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور زمانہ قول ہے کہ وہ (استاد) جس نے مجھے دو حرف بھی سکھا دیے میں اس کا غلام ہو گیا.

درسگاہیں، ڈگریاں اور روحانی رشتوں کے جنازے
باب العلم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور زمانہ قول ہے کہ وہ (استاد) جس نے مجھے دو حرف بھی سکھا دیے میں اس کا غلام ہو گیا.
مذہب رحمد لی سکھاتا ہے
چھوٹوں سے پیار اور بڑوں کے ادب کا درس سکھاتا ہے.
استاد کو روحانی باپ کہا گیا ہے. بلکہ استاد کا درجہ باپ سے بھی بڑھ کر ہے. والدین جنم دیتے ہیں پرورش کرتے ہیں پروان چڑھاتے ہیں تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اپنی حیثیت کے مطابق بچوں کی سکولنگ کا اہتمام کرتے ہیں ان کے رشتے ڈھونڈتے ہیں اور تمام عمر ان کی خوشحالی اور خوشیوں کے لیے دعا گو ہی نہیں رہتے ہر ممکنہ حد تک آخری سانسوں تک چلے جانے سے بھی گریز نہیں کرتے. یہ ہوتے ہیں والدین جو اپنے منہ کا نوالہ بھی بچوں کے منہ میں ڈال دیتے ہیں. اور والدین میں ماں کی محبت سے تو لکھنے والوں نے صفحات کے صفحات سیاہ کر دیئے ہیں.
مامتا کے لاڈ
جو ماں بتاتی تھی
وہ لاڈ تھا سب
جو ماں سکھاتی تھی
وہ لاڈ تھا سب
اصل سبق سکھاے دنیا نے
انسان کی تربیت آغوش ماں سے بھی پہلے شکم ماں سے ہی شروع ہو جاتی ہے. لہٰذا عقلمند خاندان حاملہ عورتوں کے سکھ، آرام اور اچھی خوراک کا خیال رکھتے ہیں. گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھتے ہیں تاکہ بچہ ایک پرسکون ماحول میں نشوونما پاے. گھریلو تربیت کے بعد تعلیم تربیت کی ذمہ داری اساتذۂ کرام پہ آتی ہے. تعلیم پہ مذہب میں بہت زور دیا گیا ہے جب غار حرا میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہ وحی کا نزول شروع ہوا تو پہلا لفظ ہی تھا اقراء مطلب پڑھ.
اور حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی علم حاصل کرنے کی اہمیت اس شے کی سند ہے کہ حصول علم شعور کامل اور انسانی وحشت سے نجات کے لیے بہت ضروری ہے. لہذا احادیث سے علم کے مرتبے سے ہم سارے ہی کسی نہ کسی حد تک آگاہ ہیں.
گود سے گور تک علم حاصل کرو
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے.
اور حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک انتہائی خوبصورت حدیث کہ
میں علم ہوں اور علی اس کا دروازہ
تو یہ تو ہم سب کو سمجھ آ گءی کہ حصول علم کاروبار حیات کی روانی کے لیے اشد ضروری ہے. اور حصول علم کے لیے گھر کی چوکھٹ اور ماں کی گود کو تو برملا چھوڑنا ہی پڑتا ہے سکول کا در کھٹکھٹانا پڑتا ہے. سکول میں چپڑاسی سے لیکر پرنسپل تک پوری ایک راجدھانی ہوتی ہے جو ملت کے معماروں کی پاسبانی اور تعلیم تربیت مناسب طور پہ کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے. اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کریں تو مہربان، ہمدرد، پر خلوص اور ذہین و فطین اساتذہ اکرام کی ایک فوج ہوتی تھی جو طالب علموں کو خلوص نیت سے پڑھای کے علاوہ بھی رہن سہن کے تمام جتن بتانے کے لیے بیتاب رہتے تھے. ٹیوشنز اور پرائیویٹ سکولز کا فیشن گرچہ شروع ہو چکا تھا مگر
ابھی اس فیشن نے وبا کی شکل اختیار نہ کی تھی. لوگوں کے دکھ درد اور سکھ سپنے سانجھے تھے. زندگی سادہ تھی لوگ ماں کے ہاتھ کے کھانوں کے دیوانے تھے جو ماں پکادیتی وہی من و سلویٰ تھا جو مان پہنا دیتی وہی دنیا کا سب سے بہترین پہناوا تھا. ہوٹلنگ اور برانڈ کا دور دود تک کوئی نام و نشان نہ تھا لوگ سادے تھے بیماریاں اور پواڑے کم تھے. پھر نجانے کس کی نظر لگی کہ پورا آشیاں ہی جل گیا. سکول کالجز اور یونیورسٹیاں پرائیویٹ کیا ہویں تعلیم نے باقاعدہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہم.اپنے باپ کی لاڈلی اور محنتی بیٹیاں میرٹ پہ سرکاری اداروں میں پڑ ھی تھیں ہم ناک کی سیدہ میں چلنے والے لوگ محنت اور میرٹ کے جادو سے ہی واقف تھے ہمیں اپنے جنت مکانی باپ کی یہ بات ہمیشہ یاد رہی کہ پوری دنیا میں راستے صرف دو ہی ہیں سچ اور جھوٹ اور سچ کو کبھی چھوڑا نہیں اور جھوٹ سے ناتا جوڑا نہیں اور اپنی محنت سے بھلے زمانے کے بھلے اساتذۂ کی راہنمائی میں بڑی حیا اور پاسداری کے ساتھ اپنی اپنی ڈگریاں لے کے والدین کے ہاتھوں میں جا تھمایں والدین کے غرور اور اپنے وقار کو کبھی بھی داو پہ نہیں لگایا الحمدللہ.
مگر عجب لچا زمانہ آگیا ہے باییس جولائی 2023 کی ایک منحوس صبح کو اس صدی کا سب سے بڑا جنسی سکینڈل جس میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے ایک ذمہ دار افسر کے فون سے تقریباً پچپن سو کے قریب یونیورسٹی کی لڑکیوں کی نازیبا تصاویر. وڈیوز. منشیات. آیس. ممنوعہ ادویات اور ایک عدد یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ بیک وقت برآمد ہوئیں تو ہر طرف تہلکہ مچ گیا مجھے اس مملکت یہاں کے رہنے والوں اس طرح کی غلیظ ڈگریاں حاصل کرنے کے مکروہ طریقوں سے شدید گھن محسوس ہوی. تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ یونیورسٹی کی سکیورٹی. پروفیسرز ہوسٹل وارڈن. سب مل کے طالبات کو گریڈ بڑھانے. وظائف دینے اور سمسٹر میں پاس کروانے کا جھانسہ دے کر مختلف جگہوں پہ لے جا کر طالبات سے دل پشوری کرتے. جنسی زیادتی کرتے. انھیں ہراساں کرتےان کی ویڈیوز بناتے. اور انھیں بلیک میل کر کے انھیں طالبات کو دوسری طالبات کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتے. روح کانپ جاتی ہے یہ سب کچھ سن کے زمین کیوں نہ پھٹی اور آسمان کیوں نہ نیچے آن گرا. اس سے بڑھ کر بے حیائی اور بے غیرتی ہو سکتی ہے بھلا کہ وہ جو آپ کا روحانی باپ ہے وہ جو آپ کو تعلیم دینے پہ مامور کیا گیا ہے وہ آپ کی عزت کی دھجیاں بکھیر دے وہ آپ کی حیا کے آنچل کو تار تار کر کے آپ کو پوری دنیا کے سامنے نشانہ عبرت بنا دے. اور مجھے ان بے غیرت مردوں سے زیادہ اس یونیورسٹی کی بے غیرت طالبات سے شکوہ ہے کہ جب. پہلی لڑکی کے ساتھ یہ ریادتی ہوی تھی تو اس نے اپنے لب کیوں نہیں کھولے اس نے اپنے باپ اپنی ماں اپنے بہن بھائیوں یا معاشرے کے کسی بھی ذمہ دار انسان کو اس حیوانی فعل کے بارے میں کیوں نہیں بتایا اور اس ہوشربا سکینڈل کے آوٹ ہونے کی وجہ بھی پولیس کا ایک جوان ہی بنا جو اس نام نہاد ریٹائرڈ میجر کی گاڑی کو مشکوک جان کے چیک کر بیٹھا. مجھے ان آندھی گونگی بہری بچیوں سے شکوہ ہے جنہوں نے صرف ایک ڈگری ایک معمولی سی ڈگری کے حصول کے لیے اپنا دامن تار تار کر دیا. اپنی عزت کو کوڑیوں میں بیچنے والیوں سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا آپ میں سے کسی کو بھی اپنے گھر سے عزت مان اور پیار نہیں ملا جو آپ نے اپنی عزت دو کوڑی کی کر دی.
اے حوا کی بیٹی
نصیبوں میں تیرے
کیوں دھکوں پہ دھکے
کیوں ٹھوکر پہ ٹھوکر
تو یہ ٹھوکر حوا نے خود چنی.
اور اسلامیہ یونیورسٹی میں جو گند کی دوکان کھول کے باقاعدہ چلای گءی تو کوی ایک دن میں تو یہ شیطانی چرخہ معرض وجود میں آیا نہیں ہوگا اس میں بہت سی کالی بھیڑیں بہت سے شیطان اور بہت سے مکروہ لوگ شامل ہیں اور میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ اس مکروہ دھندے میں شامل کسی بھی مرد کی نہ کوئی ماں ہے
نہ بیوی ہے
نہ بہن ہے
اور
نہ ہی کوئی بیٹی ہے
کیوں کہ ماوں. بہنوں اور بیٹیوں والے تو اپنی ہی نہیں دوسروں کی ماوں بہنوں اور بیٹیوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.
پنجابی کی یہ آکھان تو آپ نے سنی ہی ہو گی
دھیاں سب دیاں ساجیاں
اور مذہب اسلام میں پیغمبر اسلام نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی بیٹی فاطمہ الزہراء کی آمد پہ اپنی لاڈلی بیٹی اور تمام جنت کی عورتوں کی سردار کا آٹھ کر استقبال کرتے تھے.
یہ عزت کی چادر
یہ بابا کا شملہ
سنو بنت حوا
تھا تیرے حوالے
تجھے تھامنا تھا
تو اگر کوی عورت اپنی عزت گنوا آتی ہے تو قصور اس عورت اور لڑکی کا ہے معاشرے سے بھی زیادہ ہر عورت اپنی حیا اور عزت کی خود ذمہ دار ہے اور آج اگر ہماری بچیاں بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہیں تو اسے ہر نسل جنریشن گیپ کا نام دے کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی یہ ہم ماوں کا قصور ہے کہ ہم اپنے بچوں َاور بالخصوص بچیوں کی مناسب تربیت کرنے میں ناکام رہے.
اللہ پاک سب کی بچیوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین
ڈاکٹر پونم گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں