google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0
4

راجہ سہیل: قلم، قانون اور کردار کا روشن استعارہ خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

راجہ سہیل: قلم، قانون اور کردار کا روشن استعارہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی صلاحیتوں، کردار، خلوص اور مسلسل جدوجہد کے باعث محض ایک فرد نہیں رہتیں بلکہ اپنے شعبے کی پہچان بن جاتی ہیں۔ راجہ سہیل بھی ایسی ہی ہمہ جہت اور باصلاحیت شخصیت ہیں جنہوں نے قلم و قرطاس کی دنیا کے ساتھ ساتھ شعبۂ قانون میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کا شمار لاہور کے نامور قلم کاروں، معروف قانون دانوں اور سینئر صحافتی شخصیات میں ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے راجہ سہیل کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو محض ذاتی کامیابی تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں معاشرے کی مثبت اور تعمیری تشکیل کے لیے بروئے کار لایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت عوامی و سماجی حلقوں سے لے کر تعلیمی، ادبی، صحافتی اور قانونی حلقوں تک عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
راجہ سہیل کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا حسنِ اخلاق اور ملنسار مزاج ہے۔ وہ انتہائی ہردلعزیز، پروقار، خوش گفتار، بردبار، خوش لباس، خوش اخلاق اور معاملہ فہم انسان ہیں۔ ان سے ملنے والا شخص ان کے شائستہ اندازِ گفتگو، خلوص اور مثبت رویے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ان کی گفتگو میں متانت، فکر میں وسعت اور رویے میں اپنائیت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہی اوصاف ان کے تعلقات کو مضبوط اور ان کی شخصیت کو مزید قابلِ احترام بناتے ہیں۔
صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ قلم کو معاشرے کی اصلاح، حقائق کی ترجمانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرنا ہر صحافی کے لیے ایک بڑا امتحان ہوتا ہے۔ راجہ سہیل نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے۔ مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ان کی طویل وابستگی ان کے صحافتی تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
قومی اور بین الاقوامی حالات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ ملکی سیاست، معاشرتی معاملات، عالمی منظرنامے اور عوامی مسائل کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ان کے کالم قارئین میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں محض تنقید نہیں بلکہ اصلاح، شعور، دلیل اور مثبت سوچ کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
راجہ سہیل کی صحافت کا طرۂ امتیاز مثبت اور تعمیری صحافت ہے۔ وہ قلم کو کسی کی کردار کشی یا محض سنسنی پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے معاشرے میں آگہی، برداشت، مکالمے اور تعمیری فکر کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی صحافتی خدمات نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ نوجوان صحافیوں کے لیے بھی ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔
راجہ سہیل نے پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز کے لیے ان کی خدمات مثالی رہی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ کے موضوعات پر ان کی گرفت، معاملات کو سمجھنے اور مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت انہیں دیگر بہت سے لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔
صحافت کے میدان میں طویل اور فعال سفر نے انہیں وسیع تجربہ عطا کیا ہے۔ وہ خبر کو صرف خبر کے طور پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر، اثرات اور عوامی زندگی پر مرتب ہونے والے نتائج کے تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
راجہ سہیل کی شخصیت کا دوسرا اہم حوالہ شعبۂ قانون ہے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے معروف وکلاء میں شمار ہوتے ہیں اور دنیائے قانون میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ قانون کے پیچیدہ معاملات کو سمجھنے، مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرنے اور قانونی نکات کو مدلل انداز میں اجاگر کرنے کی صلاحیت ان کے پیشہ ورانہ سفر کا نمایاں وصف ہے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن اور پنجاب بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں بھی ان کی سرگرمیاں قابلِ ذکر رہی ہیں۔ وکلاء برادری کے معاملات میں ان کی دلچسپی اور فعال کردار اس امر کا عکاس ہے کہ وہ اپنے پیشے کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور خدمت کا میدان سمجھتے ہیں۔
راجہ سہیل کی صحافتی خدمات اور ان کی متحرک پیشہ ورانہ زندگی انہیں لاہور کی صحافتی برادری میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ وہ لاہور پریس کلب کے سرمایۂ افتخار ہیں۔ صحافت اور قانون دونوں شعبوں میں بیک وقت فعال رہنا آسان کام نہیں، مگر راجہ سہیل نے اپنی محنت، مستقل مزاجی اور صلاحیتوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انسان میں عزم، اخلاص اور جذبۂ خدمت موجود ہو تو مختلف شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ شہرت محض نام بنانے سے نہیں بلکہ کردار، علم، خدمت اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔ راجہ سہیل نے اپنے لیے جو مقام پیدا کیا ہے، اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مطالعہ، تجربہ اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کارفرما ہے۔
راجہ سہیل کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کے باوجود ان کے اندر عاجزی، خلوص اور انسان دوستی کا جذبہ نمایاں ہے۔ وہ اپنے دوستوں، ساتھیوں اور ملنے والوں کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حلقۂ احباب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
ایسی شخصیات معاشرے کے لیے قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں جو اپنے علم و تجربے کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ راجہ سہیل بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے قلم، قانون اور تعلقات—تینوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں اور کردار کی روشن مثال قائم کی ہے۔
آخر میں دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ راجہ سہیل کو صحت، سلامتی، عزت، خوشیوں اور کامیابیوں سے ہمیشہ نوازے، ان کے قلم میں مزید تاثیر عطا فرمائے، انہیں شعبۂ صحافت اور قانون میں مزید کامیابیاں عطا کرے اور ان کی خدمات کو معاشرے کے لیے مزید مفید بنائے۔
اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں