*عشق کے تقاضے*
اللہ تعالیٰ کی معرفت، محبت اور قربِ خاص حاصل کرنے والے ولی، اوتاد اور ابدال، غوث / قطب، نجبا و نقبا،اور قلندر سمیت ہر ایک مراتب عشق کے محور میں بندھا رہتا ھے، اپنی روحانیت کے ادب و آداب کے مطابق دنیا کے خرافات سے دور وہی کچھ کرتے ہیں جس سے اللہ سبحان تعالیٰ اور محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و بارک وسلم کی رحمت و محبت میسر آجائے وہ طریق ادب و سلیقہ اپنانے کی کوشش جو صحابہ رضوان الاجمعین کیا کرتے تھے کیونکہ صحابہ کرام جیسا ادب و احترام دنیا میں اور کوئی نہیں کرسکتا اور اصحاب جیسا مقام کسی بھی با ادب ولی کامل کو بھی میسر نہیں آسکتا البتہ بوئے علی کی نعمت میسر بو علی سینا کو عطا کی گئی۔ اس بو علی میں اس قدر عشق و محبت اور دیوانگی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و بارک وسلم ھے کہ فرش سے عرش تک عشق کا نور نمودار ہوگیا بیشمار حائل پردے ہٹا دیئے گئے۔ یاد رکھئے کہ عاشق اور غلام شرائط کے مقید ھوتے ہیں، حد ادب کو ملحوظ رکھتے ہیں، با وضو اور صفائی ستھرائی میں ہمہ وقت رہتے ہیں۔ پھر درود و سلام کی ضرب لگا کر نور کے سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں۔ واللہ یہی تو اصل عشق ھے، جو فنا کو حیات کی طرف لے جاتا ھے، جو ابدی حیات کو نوری لباس پہناتا ھے، جو پرواز عشق میں مبتلا رکھتا ھے یہ عشق درود و سلام سے شروع ہوکر حمد باری تعالیٰ پر ٹھہرتا ھے یہی انسان کی منزل ھے یہی قرب کا مقام ھے۔ اللہ ھم سب کو غلام اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و بارک وسلم بنادے آمین یا رب العالمین ۔۔۔ طالب دعا: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی۔
5
*عشق کے تقاضے* اللہ تعالیٰ کی معرفت، محبت اور قربِ خاص حاصل کرنے والے ولی، اوتاد اور ابدال، غوث / قطب، نجبا و
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0









