google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0
12

سائبر ہراسیت بمقابلہ ڈیجیٹل بلیک میلنگ تحریر :عفت رؤف

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سائبر ہراسیت بمقابلہ ڈیجیٹل بلیک میلنگ
تحریر :عفت رؤف

دور حاضر تیز رو ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اظہارِ رائے اور ذرائع ابلاغ کو وسعت دی ہے، وہیں اس کے منفی استعمال نے معاشرتی اقدار کو شدید نقصان بھی پہنچایا ہے۔ سوشل میڈیا کے معروف پلیٹ فارمز میں فیس بک ،یو ٹیوب ،انسٹاگرام،ایکس اور ٹک ٹاک وغیرہ شامل ہیں
جہاں ان کے باعث بعض افراد کو شہرت ملی ہے، وہیں دوسری طرف اس کا استعمال اب گھناؤنے جرائم خصوصاً بلیک میلنگ، کردار کشی اور ڈیجیٹل ہراسمنٹ کے لیے دھڑلے سے کیا جا رہا ہے۔
قارئین کو واضح کرتے چلیں کہ ایک جانب خواتین کو شدید سائبر ہراسمنٹ کا سامنا ہے اور بظاہر معزز افراد بھی ان باکس یا پرائیویٹ پیغامات میں غیر اخلاقی گفتگو کر کے ان کی تضحیک اور ہراسیت کا باعث بنتے ہیں جب کہ دوسری جانب جرائم پیشہ عناصر بےباک خواتین کو آلہء کار کے طور پر استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے ہیں ان مقاصد کے لیے ذیادہ تر ٹک ٹاک پلیٹ فارم استعمال ہو رہا ہے جس کے ذریعے خفیہ ویڈیوز بنا کر ہنی یا منی ٹریپ جیسے مافیاز نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے
حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں بعض خواتین ٹک ٹاکرز کی جانب سے معززین اور صحافتی پیشے سے وابستہ افراد کو بھی خفیہ ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنانے، اور پھر اس کی بنیاد پر ان سے بھتہ وصول کرنے یا بلیک میل کرنے کے جو مکروہ واقعات سامنے آئے ہیں، انھوں نے پورے معاشرے اور بالخصوص صحافتی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
عوام کی آگاہی کے لیے ذکر کرتے چلیں کہ پاکستان میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے پیکا ایکٹ 2016 (سیکشن 24 – سائبر سٹالنگ اور غیر مجاز ریکارڈنگ) واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کی طاق جھانک کرنا، اس کی اجازت کے بغیر تصویر یا ویڈیو بنانا، اور اسے اس طرح ظاہر یا تقسیم کرنا جس سے اسے نقصان، تشویش یا ذہنی تکلیف پہنچے، ایک سنگین جرم ہے۔اس جرم کی سزا 3 سال تک قیدیا 10 لاکھ روپے تک جرمانہ، یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات موجود ہیں کہ نجی مقامات پر خفیہ آڈیو یا ویڈیو سرویلنس کرنا نہ صرف پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ناقابلِ ضمانت اور سنگین مجرمانہ فعل بھی ہے۔ قانون کی رٹ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جرم چاہے کوئی بھی کرے، قانون صنف، مرتبے یا پیشے کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتتا۔
سوشل میڈیا لا وبال صحافت جیسے مقدس پیشے کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے
موجودہ صورت حال میں حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ صحافت کا وقار بحال رکھتے ہوئے خبروں کی اشاعت کا حق مستند صحافی کو ہی دیا جائے تاکہ صحافت
سے وابستہ افراد کو بلیک میلنگ سے محفوظ رکھا جا سکے ٹک ٹاک لائیو اور غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے والوں کا سدباب کیا جائے
صحافت پر حملہ ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ آزادیِ اظہار اور معاشرے کے بنیادی ستون پر حملہ ہے۔
خواتین ٹک ٹاکرز کی جانب سے مبینہ طور پر ذاتی تعلقات یا پیشہ ورانہ ملاقاتوں کی آڑ میں خفیہ ویڈیوز بنانا اور پھر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر رقوم بٹورنا ایک منظم گینگ کے طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس گھناؤنے کھیل کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اس طرح کے عناصر معاشرے کا ناسور ہیں جو سوشل میڈیا کی آڑ میں بلیک میلنگ کی انڈسٹری چلا رہے ہیں۔
اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے درج ذیل عملی اقدامات اور تجاویز پر فوری عمل درآمد ناگزیر ہے:
ایسی خواتین جو سائبر ہراسیت کا شکار ہوں ان کی معاونت کی جائے لیکن جو خواتین ٹک ٹاکرز بلیک میلنگ میں ملوث ہوں ان کے موبائلز کی جیوفینسنگ،فرانزک،
معاشرتی سرگرمیوں،ذریعہ ء معاش کو زیر تفتیش لایا جائے تو بہت سے پس پردہ محرک اور محرکات منظر عام پر لائے جا سکتے ہیں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ایسے موبائل فونز یا نان پی ٹی اے موبائلز کا محاسبہ کرے بین الاقوامی اداروں کو ایسے اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سرگرمیوں سے آگاہ کر کے ہمیشہ استعمال پر پابندی لگائی جائے
ہر شہر میں ان خواتین ٹک ٹاکرز کے پس پردہ استاد تلاش کیے جائیں بالخصوص غیر ملکی ایجنڈے کے تحت جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ساتھ رابطوں کے لنکس زیر تفتیش لائے جائیں

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ایسے گروہوں کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے فوری، سخت اور بلا امتياز کارروائی کرنی چاہیے۔
پیکا ایکٹ 2016 کے تحت ملزمان کو فوری گرفتار کر کے عدالتوں سے تیز رو قانونی مراحل سے گزار کے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں تاکہ یہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنیں۔
ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان میں ایسے اکاؤنٹس کی سخت مانیٹرنگ کریں جو ہراسمنٹ، بلیک میلنگ یا غیر اخلاقی مواد پھیلانے میں ملوث ہیں۔

صحافیوں اور عام شہریوں بالخصوص ڈیجیٹل ہراسمنٹ کا شکار ہونے والوں کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس اور فوری رسپانس ہیلپ لائن قائم کی جائے۔
میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ڈیجیٹل اخلاقیات (Digital Ethics) کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے منفی اور مجرمانہ استعمال سے بچ سکے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود خواتین کو ہراساں کرنا بلاشبہ ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام ہے لیکن آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جرائم پیشہ عناصر بلیک مینلگ کا کاروبار شروع کر دیں اگر وقت پر ان بلیک میلرز کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی نہ کی گئی، تو معاشرتی اقدار کا یہ زوال مزید خطرناک شکل اختیار کر جائے گا۔
حکومت وقت،متعلقہ اداروں اور عدلیہ کو اس معاملے پر فوری انصاف فراہم کرنا ہوگا تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں