عمرکوٹ سے رپورٹ بیوروچیف کررہے ہیں ہمارے بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی کے مطابق
یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر *اسسٹنٹ کمشنر سامارو، سنجے ترکِیو* کی قیادت اور نگرانی میں ایک پُروقار یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی کا مقصد کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی، بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت، اور مسئلۂ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا۔
ریلی میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران و اہلکاروں، محکمۂ تعلیم کے اساتذہ، طلبہ و طالبات، مدارس کے طلبہ، علمائے کرام، سندھ پولیس، ٹاؤن کمیٹی، دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان، سماجی شخصیات، صحافی برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے قومی پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، آزادیٔ کشمیر اور ان سے اظہارِ یکجہتی کے پیغامات درج تھے۔
ریلی کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر سمارو سنجے ترکِیو نے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام کی قربانیوں، استقامت اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
ریلی پُرامن ماحول میں نیشنل پریس کلب سامارو پر اختتام پذیر ہوئی،جہاں شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ اختتام پر علمائے کرام نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کی آزادی، سلامتی، امن، شہداء کے بلند درجات، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعا کروائی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہر محاذ پر اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔









