سکھر سے خبر دے رھے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی روہڑی کے قریب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے
سکھر سے خبر دے رھے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی روہڑی کے قریب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے گاؤں صاحب خان جسکانی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوٹل کی عمارت مسمار کردی علاقہ مکینوں کا ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نعرے بازی ریلوے والوں نے بلا جواز کاروائی کی ہے ریلوے سکھر کے ای اے این آئی بلیو نے پولیس نفری کے ہمراہ گاوں صاحب خان جسکانی پہنچ کر ریلوے لائن کے قریب ہوٹل اور دیگر املاک کو ہتھوڑوں کے ذریعے مسمار کرنا شروع کیا اس دوران مالکان کی جانب سے پاک کتاب اٹھا کر آپریشن روکنے کی التجائیں کرنے پر ریلوے عملہ کاروائی بند کر کے چلا گیا جسکے خلاف حاجی روشن جسکانی، محمد علی جسکانی، نور محمد، راشد عرف پپو جسکانی کی قیادت میں دیہاتیوں نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریلوے لائن کے قریب واقع ان کی قبولی اور ذاتی ملکیت، جہاں ہوٹل تعمیر کیا ریلوے انتظامیہ نے بلاجواز ریلوے کی ملکیت قرار دے کر مسمار کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، جبکہ ان کے پاس ملکیت کے قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بعض ریلوے اہلکار مبینہ طور پر مخالفین سے مل کرکے ان کی ملکیت پر قبضہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ریلوے انتظامیہ پیمائش کرانا چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں اور قانونی طور پر جو حدود ثابت ہوں گی، وہ اسے تسلیم کریں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ غریب محنت کشوں کے گھروں اور روزگار کے ذرائع کو مسمار کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔ سے خبر دے رھے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی روہڑی کے قریب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے گاؤں صاحب خان جسکانی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوٹل کی عمارت مسمار کردی علاقہ مکینوں کا ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ نعرے بازی ریلوے والوں نے بلا جواز کاروائی کی ہے ریلوے سکھر کے ای اے این آئی بلیو نے پولیس نفری کے ہمراہ گاوں صاحب خان جسکانی پہنچ کر ریلوے لائن کے قریب ہوٹل اور دیگر املاک کو ہتھوڑوں کے ذریعے مسمار کرنا شروع کیا اس دوران مالکان کی جانب سے پاک کتاب اٹھا کر آپریشن روکنے کی التجائیں کرنے پر ریلوے عملہ کاروائی بند کر کے چلا گیا جسکے خلاف حاجی روشن جسکانی، محمد علی جسکانی، نور محمد، راشد عرف پپو جسکانی کی قیادت میں دیہاتیوں نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریلوے لائن کے قریب واقع ان کی قبولی اور ذاتی ملکیت، جہاں ہوٹل تعمیر کیا ریلوے انتظامیہ نے بلاجواز ریلوے کی ملکیت قرار دے کر مسمار کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، جبکہ ان کے پاس ملکیت کے قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بعض ریلوے اہلکار مبینہ طور پر مخالفین سے مل کرکے ان کی ملکیت پر قبضہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ریلوے انتظامیہ پیمائش کرانا چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں اور قانونی طور پر جو حدود ثابت ہوں گی، وہ اسے تسلیم کریں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ غریب محنت کشوں کے گھروں اور روزگار کے ذرائع کو مسمار کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔