6

اعترافِ محنت کی روشن روایت خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

اعترافِ محنت کی روشن روایت

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، تہذیبی ارتقاء اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے، جبکہ استاد اس بنیاد کا وہ مضبوط ستون ہے جس پر قوموں کی تعمیر کا عظیم الشان محل استوار ہوتا ہے۔ دنیا کی وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے اساتذہ کرام کی عزت، ان کی خدمات کے اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کو قومی ترجیحات میں شامل کرتی ہیں۔ جب محنت، دیانت اور بہترین کارکردگی کو سرکاری سطح پر سراہا جائے تو نہ صرف متعلقہ افراد کے حوصلے بلند ہوتے ہیں بلکہ پورا نظام بہتری اور مثبت مقابلے کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج جوہرآباد میں ضلع خوشاب کے بہترین اساتذہ کرام، بہترین پرنسپلز اور نمایاں کارکردگی کے حامل کالجز کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب اسی روشن سوچ کی عملی تصویر تھی۔ یہ تقریب صرف انعامات اور اعزازات کی تقسیم تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے یہ پیغام دیا کہ اب تعلیمی میدان میں کارکردگی، معیار اور خدمت کو حقیقی قدر و منزلت دی جا رہی ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ضلع خوشاب، پروفیسر ڈاکٹر ارم اقبال کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں ڈائریکٹر کالجز سرگودھا ڈویژن ڈاکٹر ناہید ناز کی خصوصی شرکت نے تقریب کی وقعت میں مزید اضافہ کیا۔ ان کی موجودگی اس امر کا ثبوت تھی کہ اعلیٰ تعلیمی قیادت اپنے ماتحت اداروں اور اساتذہ کی خدمات کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج جوہرآباد کے پرنسپل ڈاکٹر عاصم شہزاد اور ان کی ٹیم نے جس خوش اسلوبی، نظم و ضبط اور عمدہ انتظامات کے ساتھ اس تقریب کو کامیاب بنایا، وہ قابلِ تحسین ہیں۔ ایسے پروگرام صرف رسمی کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ یہ اداروں کے وقار، انتظامی صلاحیت اور تعلیمی ماحول کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کی پرفارمنس انڈیکیٹرز کی بنیاد پر بہترین اساتذہ، پرنسپلز اور کالجز کا انتخاب دراصل میرٹ، شفافیت اور کارکردگی پر یقین کا اظہار ہے۔ جب اعزازات ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر دیے جائیں تو اس سے اداروں میں اعتماد، دیانت داری اور مثبت مسابقت فروغ پاتی ہے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ بہترین اساتذہ کو صرف اعزازی شیلڈز اور اسناد ہی نہیں بلکہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے مالی مراعات بھی فراہم کی گئیں۔ درحقیقت معاشرے میں استاد کی عزت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بڑھتی ہے، اور یہ اقدام اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب کے مقررین نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بجا طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ ضلع خوشاب کی تاریخ میں اس نوعیت کی تقریب پہلی مرتبہ منعقد ہوئی ہے۔ یہ روایت اگر مستقل بنیادوں پر جاری رہی تو یقیناً تعلیمی اداروں میں معیار، نظم و ضبط، تحقیق اور تدریسی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
تقریب کے دوران کھیلوں کے مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں نقد انعامات کی تقسیم بھی اس حقیقت کا اظہار تھی کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔ متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے یہ سوچ نہایت مثبت اور قابلِ تقلید ہے۔
ڈاکٹر ناہید ناز اور ڈاکٹر ارم اقبال کی قیادت اس لحاظ سے قابلِ ستائش ہے کہ انہوں نے ضلع خوشاب میں تعلیمی معیار کی بہتری، اساتذہ کی عزت افزائی اور اداروں کے درمیان صحت مند مقابلے کی فضا قائم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ایک کامیاب منتظم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور ان کی خدمات کو مناسب اعتراف دے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی ترقی صرف نئی عمارتوں یا جدید سہولیات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے باصلاحیت، باحوصلہ اور باوقار اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب استاد خود کو باعزت، محفوظ اور قدر کی نگاہ سے دیکھا ہوا محسوس کرے گا تو وہ اپنی تمام تر توانائیاں نئی نسل کی بہترین تربیت پر صرف کرے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع خوشاب میں شروع ہونے والی یہ خوبصورت روایت پورے پنجاب میں مزید وسعت اختیار کرے تاکہ ہر وہ استاد، ہر وہ پرنسپل اور ہر وہ تعلیمی ادارہ جو اخلاص، محنت اور دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، اسے اس کی محنت کا اعتراف مل سکے۔ یقیناً اعترافِ خدمت کی یہ روشن روایت مستقبل میں تعلیمی میدان میں نئے سنگِ میل قائم کرے گی اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگی جہاں علم، استاد اور تعلیم کو حقیقی معنوں میں عزت و وقار حاصل ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں