44

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) سکرنڈ میں مبینہ کروڑوں روپے کی منشیات برآمد ہونے اور غائب کیے جانے کے الزامات، پولیس کارروائی پر سوالات، اعلیٰ

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) سکرنڈ میں مبینہ کروڑوں روپے کی منشیات برآمد ہونے اور غائب کیے جانے کے الزامات، پولیس کارروائی پر سوالات، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ سکرنڈ کے نواحی علاقے پرانے صابو راہو میں سکرنڈ پولیس نے رات گئے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کی منشیات، نشہ آور سپاری اور شراب کی پیکنگ کرنے والی ایک فیکٹری کے خلاف کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دو اہم مبینہ کارندوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ بڑی مقدار میں منشیات، شراب اور دیگر سامان بھی قبضے میں لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے برآمد ہونے والی مبینہ منشیات کو دو مزدا گاڑیوں کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ملزمان سے ڈیل کرکے انہیں رہا کرنے اور بڑی مقدار میں برآمد ہونے والی منشیات کو ظاہر نہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات گئے دس سے زائد پولیس موبائلیں علاقے میں پہنچیں، متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور دو مزدا گاڑیوں کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان وہاں سے منتقل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق چھاپے میں شامل بعض افراد نے بھی مبینہ طور پر حصہ نہ ملنے پر سوشل میڈیا کے ذریعے واقعے کی حقیقت سامنے لانے کی دھمکیاں دیں، جس کے بعد یہ معاملہ مزید زیرِ بحث آ گیا۔

دوسری جانب سکرنڈ پولیس نے تھانے میں درج مقدمے میں صرف 20 کٹے منشیات، ایک کرولا کار اور ایک ملزم اسلم جتک کی گرفتاری ظاہر کی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران برآمد ہونے والی مبینہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کے بارے میں آخری اطلاعات تک کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔

رابطہ کرنے پر ایس ایچ او سکرنڈ نبی بخش جلبانی نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں 20 کٹے منشیات، ایک کرولا کار اور ملزم اسلم جتک کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
ادھر سکرنڈ کی باشعور سماجی شخصیات نے الزام عائد کیا ہے کہ پرانے صابو راہو سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد ہوئی تھی، جس کے شواہد مقامی دیہاتیوں کے پاس بھی موجود ہیں، مگر پولیس نے صرف محدود مقدار ظاہر کرکے خانہ پُری کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ برآمد ہونے والی بڑی مقدار میں منشیات مبینہ طور پر دوبارہ ڈیلروں کے حوالے کر دی گئی اور گرفتار ملزمان کو بھی مبینہ ڈیل کے ذریعے چھوڑ دیا گیا۔
باشعور حلقوں نے کہا کہ سندھ حکومت منشیات کے خاتمے کے دعوے کرتی رہی ہے، مگر ایسے واقعات ان دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں