8

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی پریا ایکشن کمیٹی کا حکومت کو تین روزہ الٹی میٹم

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
پریا ایکشن کمیٹی کا حکومت کو تین روزہ الٹی میٹم، مطالبات نہ مانے گئے تو سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان
ببرلو بائی پاس دھرنا جاری، سندھو نواز گھانگھرو کا بھی احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان
سہنی پارس کی وارننگ، مطالبات منظور نہ ہوئے تو شٹر ڈاؤن اور سندھ بند کی کال دی جا سکتی ہے
لاپتا بچوں کے کیسز پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ، پریا ایکشن کمیٹی کا پولیس سے شواہد منظرعام پر لانے کا مطالبہ

سکھر: ببرلو بائی پاس پر جاری دھرنے کے شرکاء اور متاثرہ خاندانوں کی نمائندہ تنظیم پریا ایکشن کمیٹی نے سندھ اور وفاقی حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے تین روزہ الٹی میٹم دے دیا ہے. کمیٹی کے مطابق الٹی میٹم کا آج دوسرا دن ہے، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی. یہ بات پریا ایکشن کمیٹی کے رہنما سہنی پارس نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی. انہوں نے بتایا کہ ببرلو بائی پاس پر دھرنا 10 محرم الحرام سے مسلسل جاری ہے. ان کا کہنا تھا کہ تین روزہ الٹی میٹم کے بعد احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا. سہنی پارس نے کہا کہ اگر حکومت نے مقررہ مدت کے اندر مطالبات منظور نہ کیے تو سندھ بھر کی اہم شاہراہوں اور راستوں پر احتجاج کیا جائے گا. انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن جیسی احتجاجی سرگرمیوں کا بھی اعلان کیا جا سکتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور پریا ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے تمام قانونی اور جمہوری ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ قوم پرست رہنما نیاز کلانی نے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کیا ہے. اس کے علاوہ سندھو نواز گھانگھرو نے بھی دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور وہ دھرنے کے مقام پر موجود رہ کر شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں. سندھ بار کونسل، مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے بھی احتجاجی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا ہے. انہوں نے بتایا کہ مختلف رہنماؤں اور کارکنوں سے مسلسل مشاورت جاری ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے. سہنی پارس نے مزید کہا کہ سندھ بھر میں احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ٹول پلازوں، بائی پاسز اور دیگر اہم مقامات پر احتجاج کے ساتھ سندھ بند کی کال بھی دی جا سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ پریا ایکشن کمیٹی لاپتا اور قتل ہونے والے بچوں کے مقدمات پر مسلسل آواز بلند کر رہی ہے. پریا کماری، اجالا سولنگی، فاطمہ اور دیگر متاثرہ بچوں کے کیسز کی باقاعدگی سے پیروی کی جا رہی ہے، جبکہ اب تک تقریباً بیس مقدمات میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ قانونی اور اخلاقی حمایت جاری ہے. انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس جاری تحقیقات سے متعلق تمام شواہد عوام کے سامنے پیش کرے، جن میں رپورٹس، ریکارڈ، گرفتار ملزمان کی تفصیلات اور تحقیقات کی مکمل پیش رفت شامل ہو، تاکہ حقائق سامنے آئیں اور متاثرہ خاندانوں کو شفاف انداز میں انصاف فراہم کیا جا سکے. پریا ایکشن کمیٹی نے سندھ کے عوام، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی حمایت میں آواز بلند کریں اور انصاف کے حصول کی اس پرامن تحریک کا ساتھ دیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں