6

55 نمبر دے کر ایک نمبر واپس لے کر فیل کرنے کا الزام، سکھر آئی بی اے کے باہر JEST امیدواروں کا شدید احتجاج

55 نمبر دے کر ایک نمبر واپس لے کر فیل کرنے کا الزام، سکھر آئی بی اے کے باہر JEST امیدواروں کا شدید احتجاج

سکھر (بیورورپورٹ) جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچر (JEST) سائنس ٹیسٹ میں 55 سے 56 نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں نے مبینہ طور پر نتائج میں ردوبدل، ناانصافی اور درخواستیں وصول نہ کیے جانے کے خلاف سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پہلے انہیں 55 نمبر دے کر کامیاب قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں ایک نمبر کم کر کے انہیں ناکام ظاہر کر دیا گیا، جس سے ان کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔احتجاج میں شریک امیدواروں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “میرٹ بحال کرو”، “نتائج میں شفافیت لاؤ”، “55 نمبر بحال کرو” اور “امیدواروں کے ساتھ انصاف کیا جائے” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر امیدواروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں شریک تمام امیدواروں نے جونیئر سائنس ٹیسٹ میں 55 سے 56 نمبر حاصل کیے تھے اور وہ اپنے نتائج اور فائنل لسٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سکھر آئی بی اے پہنچے، تاہم انتظامیہ نے نہ صرف ان کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا بلکہ ان کی تحریری درخواستیں وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا، جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کسی قسم کی رعایت نہیں بلکہ صرف میرٹ اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی امیدوار کو پہلے کامیاب قرار دے کر بعد میں ایک نمبر کم کر کے ناکام کیا گیا ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ امیدواروں کو انصاف مل سکے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نتائج میں تبدیلی کے باعث درجنوں امیدوار ذہنی اذیت اور شدید بے چینی کا شکار ہیں، جبکہ ان کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔امیدواروں نے کہا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے آئینی اور قانونی حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، وزیرِ تعلیم سندھ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، وائس چانسلر سکھر آئی بی اے اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ جونیئر سائنس ٹیسٹ کے نتائج اور امیدواروں کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، ان کی درخواستیں وصول کر کے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور میرٹ کے مطابق فیصلے کرتے ہوئے متاثرہ امیدواروں کو انصاف فراہم کیا جائے۔احتجاج کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر ان کے 55 نمبر بحال نہ کیے گئے، شکایات کا ازالہ نہ ہوا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے سندھ بھر کے امیدواروں کو ساتھ ملا کر سخت احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں