سکھر: سندھ ہائی کورٹ بینچ نے فارسٹ گارڈ کے خلاف درج ایف آئی آر معطل کردی، گھوٹکی میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا حکم
سکھر(بیورورپورٹ)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے گھوٹکی فارسٹ ڈویژن کے فارسٹ گارڈ شاہ میر چاچڑ کے خلاف درج ایف آئی آر کی قانونی کارروائی معطل کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کو اہم ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد محکمہ جنگلات نے ضلع گھوٹکی میں سرکاری جنگلات پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف رکا ہوا بھرپور آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ قانونی تنازع میرپور کے جنگلات میں محکمہ جنگلات کی جانب سے کیے گئے کامیاب انسدادِ قبضہ آپریشن کے بعد سامنے آیا تھا، جس کے دوران بااثر قبضہ گروپوں سے سرکاری جنگلات کی تقریباً 600 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی تھی۔ اس کارروائی کے دوران محکمہ جنگلات نے قبضہ مافیا کے خلاف 23 مقدمات (ایف آئی آرز) بھی درج کرائے تھے۔محکمہ جنگلات کے مطابق قبضہ مخالف مہم کو سبوتاژ کرنے کی غرض سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میرپور ماتھیلو کے حکم پر فارسٹ گارڈ شاہ میر چاچڑ کے خلاف تھانہ بیلو میرپور میں ایک مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی، جس کے باعث ضلع گھوٹکی میں قبضہ مافیا کے خلاف جاری تمام کارروائیاں معطل ہوگئی تھیں جبکہ محکمہ جنگلات کا عملہ شدید مشکلات اور مایوسی کا شکار تھا۔سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں محکمہ جنگلات کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل ایڈووکیٹ شبیر علی بوزدار نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکار سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سرکاری جنگلات کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی مہم چلا رہے تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فارسٹ گارڈ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر ایک منظم سازش تھی تاکہ محکمہ جنگلات کی کارروائیاں روک دی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات کی وجہ سے محکمہ جنگلات کے اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی اور سرکاری جنگلات کے تحفظ میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد گھوٹکی فارسٹ ڈویژن کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے فارسٹ گارڈ شاہ میر چاچڑ کے خلاف تھانہ بیلو میرپور میں درج ایف آئی آر کی کارروائی معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر (ڈی ایف او) گھوٹکی ضیاد لغاری کو ہدایت کی کہ وہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں، سرکاری جنگلات کا تحفظ یقینی بنائیں اور ضلع گھوٹکی کے جنگلات میں دوبارہ شجرکاری (Reforestation) کا عمل شروع کریں۔ڈی ایف او گھوٹکی ضیاد لغاری نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات عدالتوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نچلی عدالت کے فیصلے کے باعث قبضہ مخالف مہم متاثر ہوئی، تاہم سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے میرٹ پر فیصلہ دے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے سے محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکاروں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اب ضلع گھوٹکی کے تمام جنگلات میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری اراضی واگزار کرا کے وہاں دوبارہ جنگلات آباد کیے جا سکیں۔ڈی ایف او ضیاد لغاری نے واضح کیا کہ محکمہ جنگلات ماحول کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور جنگلات کی بقا کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔انہوں نے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے والے عناصر کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری جنگلات اور زمینوں سے ہر قسم کے غیر قانونی قبضے قانون کے مطابق ہر صورت ختم کرائے جائیں گے۔