8

سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کا محکمہ خوراک کو نجی گوداموں پر کارروائی سے روکنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کا محکمہ خوراک کو نجی گوداموں پر کارروائی سے روکنے کا حکم
نجی گوداموں سے گندم نہ اٹھائی جائے، نہ ہی گودام سیل کیے جائیں، عدالت کے عبوری احکامات؛ سماعت 4 اگست تک ملتوی

سکھر(بیورورپورٹ)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے محکمہ خوراک سندھ کو نجی گوداموں پر چھاپے مارنے، نجی افراد کی خریدی گئی گندم ضبط کرنے اور گودام سیل کرنے سے روکنے کے عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی۔یہ احکامات سندھ ہائی کورٹ سکھر کے دو رکنی بینچ، جسٹس ذوالفقار علی سانگی اور جسٹس ارباب علی ہکڑو پر مشتمل عدالت نے فلور ملز مالکان کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیے۔درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ قربان ملانو اور ایڈووکیٹ زبیر چاچڑ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ خوراک نے گندم کی سرکاری خریداری مقررہ سیزن کے دوران نہیں کی، جس کے باعث نجی افراد اور فلور ملز مالکان نے مارکیٹ سے گندم خریدی۔ اب محکمہ خوراک انہی نجی افراد اور فلور ملز کی خریدی گئی گندم ضبط کرنے، گوداموں پر چھاپے مارنے اور انہیں سیل کرنے کی کارروائیاں کر رہا ہے، جو قانونی تقاضوں کے منافی ہیں۔ایڈووکیٹ قربان ملانو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں غیر معمولی تاخیر کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ نجی شعبے نے مارکیٹ سے گندم خرید کر اپنی ضروریات پوری کیں۔ اب محکمہ خوراک کی جانب سے انہی نجی ذخائر کے خلاف کارروائیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
ایڈووکیٹ زبیر چاچڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے محکمہ خوراک کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک نجی گوداموں پر کسی قسم کے چھاپے نہ مارے جائیں، نجی افراد کی خریدی گئی گندم نہ اٹھائی جائے اور کسی بھی گودام کو سیل نہ کیا جائے۔عدالت نے تمام فریقین کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی۔عدالتی فیصلے کو فلور ملز مالکان اور نجی گندم تاجروں کی جانب سے اہم عبوری ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ سماعت میں مقدمے کے قانونی نکات پر مزید تفصیلی بحث متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں