حقوق العباد۔۔۔۔۔۔۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔
سردار احمد تبسم گڈانی ۔۔۔۔۔
انسان پر دوسرے انسانوں کے حقوق مقرر کیئے گئے ہیں ، انسان آزاد نہیں وہ اسلام کے احکامات کے پابند ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ترجمہ
” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے ، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے ، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو ، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔
(سورہ النساء 36)
اوپر دیئے گئے آیات میں اللہ تعالیٰ نے تمام رشتوں کی بھلائی مدد نیک رویہ اور سلوک حسن کا حکم فرمایا ہے ۔ ایک حدیث پاک کی مفہوم ہے کہ ترجمہ ۔
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی ( دیہاتی ) آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا ، اس نے آپ کی اونٹنی کی مہار یانکیل پکڑ لی ، پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! ( یا اے محمد ! ) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے ۔ ابو ایوب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے ، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی ، پھر فرمایا ، ’’اس کو توفیق ملی یا ہدایت ملی ‘‘ پھر بدوی سے پوچھا :’’ تم نے کیا بات کی ؟ ‘‘ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو ، زکاۃ ادا کرو اورصلہ رحمی کرو ۔ ( اب ) اونٹنی کو چھوڑ دو ۔ ‘‘
(صحیح مسلم 104)
ایک اور جگہ رب العالمین فرماتے ہیں کہ
ترجمہ
“اور لوگوں سے بھلی بات کہا کرو۔”
اسلام ہمیں صرف عبادات ہی نہیں بلکہ بہترین اخلاق، نرم گفتگو اور باوقار اندازِ گفتگو کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اچھی بات دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور معاشرے میں محبت، احترام اور اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔
مطلب انسان کی عزت عین عبادت ث
ہر انسان عزت و احترام کا مستحق ہے۔ کسی کی تذلیل، توہین یا نفرت انگیز گفتگو انسانی وقار کے خلاف ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود شائستگی، برداشت اور احترام برقرار رکھا جائے۔ اچھی گفتگو بھی انسانیت کی خدمت اور معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ آئیے دعا کریں
یا اللہ! ہمیں بہترین اخلاق، سچائی، عدل اور نرم گفتگو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں سے نفرت، حسد اور تکبر کو دور فرما اور ہمیں محبت، اخلاص اور خدمتِ انسانیت کا پیکر بنا۔
اے اللہ! ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، اتحاد، استحکام اور خوشحالی عطا فرما، ہماری افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کی خدمت کرنے والے تمام افراد کی حفاظت فرما، اور ہمیں اپنے ملک و قوم کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنا۔