8

سوال: کیا ایک مقلد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جس امام کی تقلید کر رہا ہو، اس کی ہر بات مانے؟ خواہ یہ واضح ہو

سوال:
کیا ایک مقلد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جس امام کی تقلید کر رہا ہو، اس کی ہر بات مانے؟ خواہ یہ واضح ہو جائے کہ اس کے بعض مسائل قرآن و حدیث کے خلاف ہیں، تب بھی کیا اس امام کی بات ماننا لازم ہوگا؟

جواب:
کسی بھی مقلد کے لیے اپنے امام کی اندھی تقلید کرنا، یا واضح اور صحیح حدیث سامنے آنے کے بعد بھی محض امام کے قول پر اڑے رہنا شرعاً بالکل جائز نہیں ہے اور سخت گناہ ہے۔ اسلام میں اصل اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔
اس کی تین بڑی وجوہات ہیں:
۱. ائمہ کرام کے اپنے فرامین
چاروں مشہور ائمہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل) نے خود اپنی اندھی تقلید سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کا قول:
“جب کوئی صحیح حدیث مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے۔” انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ کسی کے لیے حلال نہیں کہ ہماری دلیل جانے بغیر ہمارے فتوے پر عمل کرے۔

امام مالکؒ کا قول:
“رسول اللہ ﷺ کے سوا دنیا میں ہر شخص کی بات مانی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے۔” ۲۔ قرآنِ کریم کی تنبیہ
قرآن مجید نے سورہ التوبہ (آیت 31) میں پچھلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کی اسی روش کی مذمت کی ہے کہ انہوں نے اللہ کے احکامات کو چھوڑ کر اپنے علماء اور پیروں کی ہر بات کو اندھا دھند ماننا شروع کر دیا تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کو “رب بنا لینے” سے تعبیر فرمایا۔
۳.تقلید کی شرعی حیثیت
تقلید محض ایک عام آدمی کے لیے عملی سہولت ہے تاکہ وہ دین کے پیچیدہ مسائل کو کسی مستند عالم کی رہنمائی میں آسانی سے سمجھ سکے۔ لیکن امام کا قول وحی نہیں ہوتا، ان سے اجتہاد میں خطا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ جب بھی کوئی صحیح اور واضح حدیث سامنے آ جائے تو ہر سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ امام کے قول کو ادب کے ساتھ چھوڑ دے اور حدیثِ رسول ﷺ پر عمل کرے۔

وما علینا الا البلاغ المبین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں