5

چھوٹے دکانداروں پر جرمانے؛ کیا سکھر روںڑی میں ایل پی جی سستی ہو جائے گی؟

چھوٹے دکانداروں پر جرمانے؛ کیا سکھر روںڑی میں ایل پی جی سستی ہو جائے گی؟

تحریر: سید نصیر حسین زیدی

سکھر میں اس وقت ایل پی جی گیس آسمان سے باتیں کر رہی ہے، اور غریب عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ کا پورا زور صرف اس بات پر ہے کہ چھوٹے ریٹیلرز کی دکانوں کو یا تو سیل کر دیا جائے یا ان پر بھاری جرمانے عائد کر دیے جائیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انتظامیہ ان سطحی کارروائیوں کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا کر ‘سب اچھا ہے’ کا راگ الاپنا چاہتی ہے۔
چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ سکھر کی ضلعی انتظامیہ ان چھوٹے دکانداروں کو فائن کر کے بالکل ٹھیک کام کر رہی ہے، لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دکانیں سیل کرنے اور جرمانے لگانے سے ایل پی جی سستی ہو جائے گی؟

سکھر کے ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ یہ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز اصل قصور وار نہیں ہیں۔ اصل خرابی کی جڑ وہ بڑی کمپنیاں ہیں جہاں سے ایل پی جی کی سپلائی آتی ہے۔ ہمیں متعدد دکانداروں نے رابطہ کر کے نہ صرف دستاویزی ثبوت دکھائے بلکہ وہ آڈیوز بھی سنوائیں جو واضح کرتی ہیں کہ یہ کمپنیاں کس طرح من مانیاں کر رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ کمپنیاں دکانداروں کو خریداری کا سرکاری بل تک فراہم نہیں کرتیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان طاقتور مافیاز کے خلاف ایکشن کون لے گا؟

اگرچہ ڈپٹی کمشنر سکھر کا دائرہ کار صرف سکھر شہر تک محدود ہے، لیکن کمشنر سکھر تو پورے ڈویژن کے سربراہ ہیں۔ وہ ان کمپنیوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ یا پھر یہ ساری کارروائیاں صرف کاغذی پیٹ بھرنے اور رسمی طور پر میڈیا کی زینت بننے کے لیے ہیں؟

ایل پی جی ریٹیلرز کا اس سارے معاملے میں سرے سے کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ غریب دکاندار تو محض 20 سے 30 روپے کے معمولی منافع پر کام کرتے ہیں۔ ان کی دکانیں سیل کرنے سے گیس سستی نہیں ہوگی، بلکہ مارکیٹ میں مزید بحران پیدا ہوگا اور ان مافیاز کو مزید تقویت ملے گی جو ہمیشہ ایسے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کمشنر سکھر کو چاہیے کہ وہ خیرپور اور ڈویژن کے دیگر شہروں میں قائم ان بڑی ایل پی جی کمپنیوں کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیں، جو نہ تو ریٹیلرز کو بل دیتی ہیں اور نہ ہی حکومتی طے کردہ نرخوں پر سپلائی فراہم کرتی ہیں۔ یہی کمپنیاں اصل بلیک میلر اور قصور وار ہیں، جن کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود سکھر اور اس کے گردونواح میں عوام کو ایل پی جی مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہے۔ جب تک سانپ کے سر پر لاٹھی نہیں ماری جائے گی، تب تک عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں مل سکتی۔ دکانداروں پر جرمانے؛ کیا سکھر روںڑی میں ایل پی جی سستی ہو جائے گی؟

تحریر: سید نصیر حسین زیدی

سکھر میں اس وقت ایل پی جی گیس آسمان سے باتیں کر رہی ہے، اور غریب عوام مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ کا پورا زور صرف اس بات پر ہے کہ چھوٹے ریٹیلرز کی دکانوں کو یا تو سیل کر دیا جائے یا ان پر بھاری جرمانے عائد کر دیے جائیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انتظامیہ ان سطحی کارروائیوں کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا کر ‘سب اچھا ہے’ کا راگ الاپنا چاہتی ہے۔
چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ سکھر کی ضلعی انتظامیہ ان چھوٹے دکانداروں کو فائن کر کے بالکل ٹھیک کام کر رہی ہے، لیکن یہاں ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دکانیں سیل کرنے اور جرمانے لگانے سے ایل پی جی سستی ہو جائے گی؟

سکھر کے ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ یہ چھوٹے دکاندار اور ریٹیلرز اصل قصور وار نہیں ہیں۔ اصل خرابی کی جڑ وہ بڑی کمپنیاں ہیں جہاں سے ایل پی جی کی سپلائی آتی ہے۔ ہمیں متعدد دکانداروں نے رابطہ کر کے نہ صرف دستاویزی ثبوت دکھائے بلکہ وہ آڈیوز بھی سنوائیں جو واضح کرتی ہیں کہ یہ کمپنیاں کس طرح من مانیاں کر رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ کمپنیاں دکانداروں کو خریداری کا سرکاری بل تک فراہم نہیں کرتیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان طاقتور مافیاز کے خلاف ایکشن کون لے گا؟

اگرچہ ڈپٹی کمشنر سکھر کا دائرہ کار صرف سکھر شہر تک محدود ہے، لیکن کمشنر سکھر تو پورے ڈویژن کے سربراہ ہیں۔ وہ ان کمپنیوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ یا پھر یہ ساری کارروائیاں صرف کاغذی پیٹ بھرنے اور رسمی طور پر میڈیا کی زینت بننے کے لیے ہیں؟

ایل پی جی ریٹیلرز کا اس سارے معاملے میں سرے سے کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ غریب دکاندار تو محض 20 سے 30 روپے کے معمولی منافع پر کام کرتے ہیں۔ ان کی دکانیں سیل کرنے سے گیس سستی نہیں ہوگی، بلکہ مارکیٹ میں مزید بحران پیدا ہوگا اور ان مافیاز کو مزید تقویت ملے گی جو ہمیشہ ایسے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کمشنر سکھر کو چاہیے کہ وہ خیرپور اور ڈویژن کے دیگر شہروں میں قائم ان بڑی ایل پی جی کمپنیوں کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیں، جو نہ تو ریٹیلرز کو بل دیتی ہیں اور نہ ہی حکومتی طے کردہ نرخوں پر سپلائی فراہم کرتی ہیں۔ یہی کمپنیاں اصل بلیک میلر اور قصور وار ہیں، جن کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود سکھر اور اس کے گردونواح میں عوام کو ایل پی جی مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہے۔ جب تک سانپ کے سر پر لاٹھی نہیں ماری جائے گی، تب تک عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں مل سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں