4

سکھر: عالمی یومِ انسدادِ عدم مساوات پر معاشی انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ

سکھر: عالمی یومِ انسدادِ عدم مساوات پر معاشی انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ

سکھر(بیورورپورٹ)عالمی یومِ انسدادِ عدم مساوات کے موقع پر فائٹ اِن ایکویلیٹی الائنس سندھ کے زیرِ اہتمام سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں معاشی انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم، ٹیکس اصلاحات اور عوام دوست پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ جب تک ریاستی پالیسیاں عوامی مفاد کو ترجیح نہیں دیں گی، اس وقت تک عدم مساوات کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
پریس کانفرنس سے فائٹ اِن ایکویلیٹی الائنس سندھ کے کنوینر علی کھوسو، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عاشق ڈومکی، ہاری جدوجہد کمیٹی کے انفارمیشن سیکریٹری گھنور کھوسو، فائٹ اِن ایکویلیٹی الائنس سندھ کونسل کے رکن شعیب انڑ اور ہاری جدوجہد کمیٹی سندھ کے رہنما عرس چوہان نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ عالمی یومِ انسدادِ عدم مساوات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشی اور سماجی عدم مساوات کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی و معاشی فیصلوں، غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا شاخسانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتی پالیسیاں چند مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کے گرد ترتیب دی جائیں تو اس کے منفی اثرات براہِ راست غریب، محنت کش، کسان، ہاری اور دیگر پسماندہ طبقات پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے قرضوں کی ادائیگی، کفایت شعاری اور اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایک جانب مہنگائی، بے روزگاری، کم ہوتی آمدنی اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ عام شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بااثر طبقے کو مسلسل مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے معاشی تفاوت مزید بڑھ رہی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ہر سال قومی وسائل کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، جس کے باعث صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، زراعت، روزگار اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبے مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی منصفانہ تنظیمِ نو، غیر منصفانہ قرضوں کی معافی اور عالمی مالیاتی نظام میں انصاف پر مبنی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔مقررین نے کہا کہ عدم مساوات صرف آمدنی کا مسئلہ نہیں بلکہ زمین، پانی، قدرتی وسائل، تعلیم، صحت، روزگار اور سیاسی اختیار تک غیر مساوی رسائی بھی اس کا اہم سبب ہے۔ انہوں نے سندھ میں پانی کی تقسیم کو عدم مساوات کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کو 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا، جبکہ دستیاب پانی بھی نہروں کے ہیڈ پر موجود بااثر وڈیروں اور جاگیرداروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر استعمال کر لیا جاتا ہے، جس کے باعث ٹیل ایریاز میں آباد کسان، ہاری اور دیہی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث دھان کی پنیری خشک ہو رہی ہے، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے اور دیہی غربت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی وسائل پر چند طاقتور طبقات کا قبضہ اور کمزور طبقات کی محرومی معاشی اور سماجی ناانصافی کی واضح مثال ہے، جبکہ پانی سمیت تمام قدرتی وسائل پر ہر شہری کا مساوی حق ہے اور ان کی منصفانہ تقسیم ریاست کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔پریس کانفرنس کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دولت، جائیداد اور غیر معمولی منافع پر ترقی پسند اور منصفانہ ٹیکس نافذ کیے جائیں، بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کرکے غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دیا جائے، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، زراعت اور روزگار کے شعبوں کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے، 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا جائز پانی فراہم کیا جائے، نہروں سے پانی کی غیر قانونی چوری کا خاتمہ کیا جائے، ٹیل ایریاز تک پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جائے اور آبپاشی کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو مؤثر بنایا جائے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی انصاف صرف معاشی ترقی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے دولت، وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم، ٹیکس اصلاحات، قرضوں کے بوجھ میں کمی، قدرتی وسائل پر عوام کے مساوی حق اور بنیادی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسا معاشی اور سیاسی نظام درکار ہے جو صرف ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے کے بجائے ننانوے فیصد عوام کے مفادات کا تحفظ کرے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر فائٹ اِن ایکویلیٹی الائنس سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم سندھ بھر میں مزدوروں، کسانوں، ہاریوں، ماہی گیروں، خواتین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر عدم مساوات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور معاشی ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر بنائے گی، جبکہ مقامی مسائل کو عالمی تحریک برائے معاشی انصاف سے جوڑنے کی کوششیں بھی تیز کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں