6

سکھر: بیٹے کے مبینہ اغواء اور پولیس پر رشوت لینے کا الزام، خاتون کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف کا مطالبہ

سکھر: بیٹے کے مبینہ اغواء اور پولیس پر رشوت لینے کا الزام، خاتون کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف کا مطالبہ

سکھر(بیورورپوٹ۔ سید ۔۔نصیر۔حسین زیدی)خیرپور میرس کی رہائشی پھلپوٹو برادری سے تعلق رکھنے والی مسمات حلیمہ پھلپوٹو نے اپنے بیٹے کے مبینہ اغواء، ملزمان کی رہائی اور پولیس کی جانب سے مبینہ رشوت لینے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف، ملزمان کی گرفتاری اور اپنے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسمات حلیمہ پھلپوٹو نے الزام عائد کیا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ان کے بیٹے طاہر علی پھلپوٹو کو جاگیرانی برادری سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد، کاظم علی جاگیرانی، نعیم جاگیرانی اور نیاز علی جاگیرانی نے مبینہ طور پر اغواء کر لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کروائی، تاہم پولیس نے مؤثر کارروائی کے بجائے ان سے بیٹے کی بازیابی کے نام پر دو لاکھ روپے طلب کیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیٹے کی بازیابی کی خاطر انہوں نے اپنا زیور فروخت کرکے دو لاکھ روپے متعلقہ پولیس افسر کو دیے، جس کے بعد ان کا بیٹا بازیاب ہوا اور نامزد ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا، لیکن بعد ازاں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے مبینہ طور پر رشوت لے کر ملزمان کو رہا کر دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے بیٹے کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان بھی ریکارڈ نہیں کروایا، جس کے باعث مقدمہ کمزور ہو گیا۔مسمات حلیمہ پھلپوٹو نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان کی رہائی کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔احتجاج کے دوران انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے، اغواء میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، پولیس اہلکاروں کے خلاف رشوت لینے کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں اور ان کے خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں