12

فرض شناسی کا روشن استعارہ — حافظ عصمت اللہ کی خدمات، ریسکیو 1122 کا قابلِ فخر سرمایہ

فرض شناسی کا روشن استعارہ — حافظ عصمت اللہ کی خدمات، ریسکیو 1122 کا قابلِ فخر سرمایہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کی ترقی یافتہ عمارتیں، جدید سڑکیں یا معاشی استحکام نہیں ہوتے، بلکہ اس کی اصل طاقت وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ایسے ہی خاموش ہیروز میں ریسکیو 1122 کے اہلکار نمایاں مقام رکھتے ہیں، جو ہر حادثے، آفت اور ایمرجنسی میں سب سے پہلے متاثرہ مقام پر پہنچ کر انسانیت کی خدمت کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔
تحصیل نورپور تھل سے تعلق رکھنے والے ملک حافظ عصمت اللہ بوڑانہ بھی انہی باہمت، فرض شناس اور مخلص اہلکاروں میں شامل ہیں، جنہوں نے عوامی خدمت کو صرف سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں تعریفی سند سے نوازا جانا دراصل ان کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بے لوث خدمات کا اعتراف ہے۔
ریسکیو 1122 ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہر لمحہ خطرات سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ حادثات، آگ لگنے کے واقعات، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات میں ریسکیو اہلکار اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں محفوظ بناتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مستقل مزاجی، حوصلہ، مہارت اور جذبۂ خدمت برقرار رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ حافظ عصمت اللہ نے اپنی عملی کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ ان تمام اعلیٰ اوصاف کے حامل ہیں۔
اس تعریفی سند پر اسسٹنٹ کمشنر نورپور تھل ڈاکٹر ہارون احمد شیراز کے دستخط اس بات کی گواہی ہیں کہ حافظ عصمت اللہ کی خدمات محض معمول کی سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ غیرمعمولی کارکردگی کا مظہر ہیں۔ ان کی فرض شناسی اور ایمرجنسی حالات میں بروقت اقدامات نے نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ادارے کی نیک نامی میں بھی اضافہ کیا۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ مختلف سماجی، عوامی، صحافتی اور کاروباری حلقوں نے حافظ عصمت اللہ کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ اس طرح کی عوامی پذیرائی ایسے اہلکاروں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے اور دیگر ملازمین کو بھی اپنے فرائض مزید محنت، دیانت اور لگن سے انجام دینے کی ترغیب دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے افراد ہی امید کی کرن ہوتے ہیں جو شہرت یا صلے کی خواہش کے بغیر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اگر ہر سرکاری ادارے میں حافظ عصمت اللہ جیسے مخلص، دیانت دار اور فرض شناس افسران و اہلکار موجود ہوں تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور خدمتِ خلق کا معیار بھی بلند ہوگا۔
ہمیں چاہیے کہ ایسے خاموش ہیروز کی خدمات کو صرف تعریفی اسناد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں معاشرے کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ نوجوان نسل میں خدمت، ایثار، ذمہ داری اور وطن سے محبت کا جذبہ پروان چڑھے۔
بلاشبہ حافظ عصمت اللہ کی یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ریسکیو 1122 نورپور تھل، ضلع خوشاب اور پورے پنجاب کے لیے باعثِ فخر اعزاز ہے۔ دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبۂ خدمت، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرتے رہیں اور اپنے ادارے اور علاقے کا نام مزید روشن کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں