سکھر: کاروکاری کا الزام لگا کر ہراسان کرنے کے خلاف بزرگ خاتون کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید ۔نصیر حسین زیدی)ضلع گھوٹکی کے گاؤں عظمت خان کولاچی کی رہائشی بزرگ خاتون عظمت کولاچی نے اپنے بیٹے عاشق کولاچی کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر افراد کی جانب سے ان کے خاندان کو جھوٹے کاروکاری (کالے کاری) کے الزام میں مسلسل ہراساں اور دھمکایا جا رہا ہے۔احتجاج کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمت کولاچی نے بتایا کہ مینگھلو کولاچی، عبدالصمد، عبدالرشید، عبدالحمید، علی گوہر اور ظفر کولاچی نے ان کے بیٹے عاشق کولاچی پر سیما کولاچی دختر عبدالغنی کولاچی کے ساتھ کاروکاری کا بے بنیاد الزام عائد کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ افراد اس الزام کو جواز بنا کر ان کے گھر پر حملے کر رہے ہیں، فائرنگ کرتے ہیں اور کاروکاری کی چٹی (جرمانہ) ادا کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے ان کے گھر میں نصب سولر پلیٹوں سمیت دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا اور آئے روز فائرنگ کرکے پورے خاندان کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے، جس کے باعث ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔
بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے متعدد بار عادل پور تھانے سے رجوع کیا، تاہم پولیس نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس افسر دین محمد کولاچی اور سردار کولاچی بااثر افراد کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس کے باعث پولیس کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ سے مایوس ہو کر انصاف کی فراہمی کے لیے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں، جھوٹے الزامات کے تحت ہونے والی ہراسانی کا خاتمہ کریں اور ان کے خاندان کو جان و مال کا تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔