10

ربیعہ میری بھانجی ہے.

ربیعہ میری بھانجی ہے.
زین کو ڈیٹ پہ جانا تھا اسے باس سے چھٹی لینے کے لیے جب کوئی بہانہ نہ سوجھا تو اس نے آنکھیں نیچی اور سر جھکا کے دہائیوں قبل مری ہوی دادی کو ایک مرتبہ پھر مار دیا اور چھٹی ملتے ہی آفس کے مین گیٹ سے چھلانگیں اور سیٹیاں مارتا ہوا باہر نکل آیا. یہ ایک عام سا جھوٹ اور معمولی سی شعبدہ بازی ہے جو روزانہ کی بنیاد پہ تمام اداروں میں متعدد بار اپنا حق سمجھ کے ببانگ دہل دوہرای اور منوای جاتی ہے. سکولوں میں دفاتر میں یہ ایک عام سی معمول کی پریکٹس ہے. جب بھی کوئی انٹ شنٹ پریکٹس کرنی ہو تو صدیوں پہلے فوت شدگان کو کمال ڈھٹائی سے مار کے اپنے وقت کو رنگین کرنے کا رواج پاک و ہند میں تو صدیوں سے رایج ہے یورپ میں بھی ایسا کچھ ہوتا ہے اس کی کچھ خبر نہیں.
ایک پوش ایریے میں ایک ماڈرن بیوٹی سیلون میں ملک کی ٹاپ ماڈل ایک نسبتاً کم عمر کی خوبرو لڑکی کے ساتھ داخل ہوتی ہے بہت سی نگاہیں ان کا طواف کرتی ہیں اور حیران ہوتی ہیں کہ حسن بے پناہ اور مماثلت کی انتہا گر چہ ان مہنگے سیلونز میں اپنے کام سے کام رکھنے پہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر پھر بھی سیلون کی اونر اپنے تجسس کے ہاتھوں دھیمے لہجے میں ماڈل سے یہ پوچھنے کی جسارت کر ہی ڈالتی ہیں کہ میڈم کیا گڑیا آپ کی بیٹی ہے یہ سنتے ہی میڈم کا پارہ ہای ہو جاتا ہے منہ لال بھبھوکا اور ہاتھ کا نپنے لگتے ہیں. پنکی کجھ تے خدا دا خوف کر ہر ویلے پٹھے سدھے اندازے نہ لایَا کر بے بی میری بھانجی وے. جی جی میڈم مجھے بھی ایسا ہی لگا بس ذرا زبان پھسل گءی تھی.
کیپ ٹاؤن کے ایک شاپنگ مال میں ڈاکٹر صبیحہ اور ان کی بارہ سالہ بیٹی کشمالہ ونڈو شاپنگ جیسی چہل قدمی میں دل و جان سے مصروف تھیں جب ایک مقامی خاتون دوکاندار نے مسکراتے ہوے ڈاکٹر صاحبہ سے ان کی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
Your daughter
Both of you are same same pretty faces
مقامی خاتون نے گلابی انگریزی میں ڈاکٹر صاحبہ کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ کیا آپ دونوں ماں بیٹی ہیں کیوں کہ آپ دونوں کے چہرے خوبصورت بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ بھی تو ماں نے وفور مسرت سے سر ہلاتے ہوے اپنی بیٹی کا منہ اور ماتھا دونوں ہی چوم لیے.
ایک ہاسٹل کے مہمان خانے میں ایک والدہ اپنے ایم اے انگریزی بچی کو سردیوں کے کپڑے اور کمبل دینے آیں تو
ماڈرن بیٹی نے والدہ سے چیزیں وصول کرنے کے بعد ماں کو چلتا کرنے کی کی. دیہاتی والدہ جو سو میل کا فاصلہ طے کر کے چک چھیالیس سے محبت کی شیرنی میں شرابور سردیوں کے کپڑے اور کمبل لے کر اپنی چہیتی بیٹی کے لیے آی تھی مگر بیٹی صرف چیزیں لے کر اپنی دیہاتی ماں سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی ماں کا دل ٹوٹ گیا تھا مگر بیٹی کو کچھ بھی محسوس کرواءیے بغیر دیہاتی ماں آنسو پیتی ہوی اپنے چک کو وآپس لوٹ گءی تھی.
حیثیت اور رتبے کی
ڈگڈگی بجاتے ہیں
لوگ اپنے رشتوں کو
تولتے ہیں پیسے سے
نظروں سے گراتے ہیں
تو باپ نے ساری عمر مزدوری کر کے اپنے اکلوتے بیٹے کو بیرسٹر بنا دیا بیرسٹر بیٹے نے ایک امیر گھر کی بیٹی سے شادی کی نک چڑھی امیر بہو نے آتے ہی اپنے بیرسٹر شوہر کے سارے رشتے دار چھڑا دیے اور اپنی زندگی میں مست ہو گءی. کیونکہ ان پڑھ ساس سسر، ماڈرن بہو صاحبہ کے لیے باعث شرمندگی تھے لہذا بہو صاحبہ نے پہلے شہر اور آخر میں بیٹے اور باپ میں ملکوں کی دوریاں ڈال دی گییں اور باپ نے اپنی بیماری میں مرنے سے پہلے بہو کو دوہیاں دی کہ بیٹے کی ایک جھلک دکھا دی جاے بہو نے فیاضی کی انتہا وں پہ جا کے سسر کو صرف بیٹے کی ایک جھلک دیکھنے کی اجازت دی بنا کوی بات چیت کیے بغیر.
اور ایک میڈم تو ایسی تھیں جنہیں اپنے ساس سسر کے دیہاتیوں والے لباس سے ہی گھن اور شرم آتی تھی وہ ساس سسر کو دو دن بعد ہی ملازم کے ساتھ وآپس گاوں بھیج دیتی تھیں انھیں صرف اپنے سسرالیوں سے ہی نہیں اپنی بوڑھی اور بیمار والدہ سے بھی بہت چڑ تھی وہ بجائے اس کے کے اپنے بوڑھے، بیمار اور لاغر بزرگوں کی خدمت خود کرتیں ان سے جان چھڑاتی رہیں حیف ہم انسانوں کی تھوڑ دلی اور چھوٹی سوچ پہ.
اور اگر دوسری انتہا پہ جا کے دیکھیں تو ایسے اچھے اور نیک لوگ ہیں جو اپنے بزرگوں کی خدمت کو عین عبادت سمجھتے ہیں وہ انھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتے، پلاتے، بہلاتے، دلاتے، ادویات اور علاج معالجے کا خیال رکھتے انھیں وہیل چیر پہ بٹھا کے پارکوں، مار کیٹوں می گھماتے پھراتے اور حد انھیں عمرے اور حج کرواتے. ایک دفعہ ایک صحابی رسول عمرہ کر رہے تھے تو انہوں نے ایک آدمی کو اپنی والدہ کو کندھوں پہ اٹھا کے عمرہ کرواتے دیکھا تو اس آدمی نے صحابی رسول سے پوچھا کیا میں نے اپنی والدہ کی اولاد ہونے کا حق ادا کر دیا صحابی رسول نے فرمایا تمہاری پیدائش کے جن تکلیف کے جھٹکوں کو سہہ کے تمہاری ماں نے تمہیں پیدا کیا ان میں سے ایک جھٹکے کا حق ادا ہو گیا. ماں بچے کو اپنی کوکھ میں رکھ کر جو تکلیف سہتی ہے اور پھر دردزہ کے پل صراط پر سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے. تو صرف والدہ کے حقوق ہی دیکھے جایں تو اس کے حقوق ہی تمام عمر کی ریاضت کے بعد بھی ادا نہیں کیے جا سکتے. اور مغربی اقوام کی دیکھا دیکھی مشرقی اقوام نے بھی اپنے والدین کو نہ صرف بوجھ سمجھنا شروع کر دیا بلکہ انھیں اپنے والدین ماننے سے بھی انکاری ہو گیے.
اور صرف اولاد ہی نہیں والدین بھی اس کام میں پیچھے نہیں مجھے باجی مسرت یاد آ گیں جن کے دو بیٹے تھے علی خوبصورت تھا اور فراز ذرا کم شکل تھا مسرت باجی کو سگی اولاد میں بھی تفرقہ ڈالتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ایک دفعہ تو مسرت باجی نے حد ہی کر دی جب کالونی میں نوارد مسز صباحت کو انھوں نے فراز کو مرحومہ بہن کا بیٹا کہہ کے متعارف کروایا تو انسا نیت سے اعتبار ہی اٹھ گیا تھا. ماہین کو بیٹی پیدا کرنے کی پاداش میں اسی دن طلاق ہو گءی تو والدین نے ماہین کی دوسری شادی جھوٹ سچ بول کے کرا تو دی مگر ماہین کی بیٹی کی ولدیت میں نانا ہی کا نام لکھوایا تاکہ بھرم بھی رہ جاے اور بیٹی والوں کو ہی بیٹی کا بوجھ اٹھا نا پڑے.
ان تمام بھانجیوں، بھتیجیوں کے نام جو ماوں کی بیٹیاں تو ہیں مگر ظالم سماج جھوٹے رسم و رواج نے انھیں خوا مخواہ کے جھوٹ کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں