روہڑی(نمائندہ محمد سلیمان ملک دعا ان لاین ۔یوش )لینس ڈاؤن پل کی تاریخی خوبصورتی کی بحالی کا کام جاری پل پر رنگ و روغن کا کام تیزی سے جاری کمزور حصوں کی مرمت،پیدل گزرگاہ کی بحالی،اسٹیل پلیٹوں کی تنصیب اور فٹ پاتھ کی تعمیر کا کام پہلے ہی مکمل تاریخی پل کو اصل شان و شوکت کے مطابق بحال کرنے کے اقدامات سکھر اور روہڑی کی شناخت سمجھے جانے والے قومی ورثے کی تاریخی عظمت دوبارہ اجاگر ہونے لگی تفصیلات کے مطابق سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر قائم برصغیر کے عظیم تاریخی اور انجینئرنگ شاہکار لینس ڈاؤن پل کی مرمت،بحالی اور تزئین و آرائش کے منصوبے کا آخری مرحلہ جاری ہے جس کے تحت ان دنوں پل پر رنگ و روغن کا کام تیزی سے جاری رکھا گیا ہے پاکستان ریلوے کی جانب سے تاریخی پل کی اصل خوبصورتی اور شان و شوکت بحال کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں ذرائع کے مطابق منصوبے کے ابتدائی مراحل میں پل کے کمزور اور متاثرہ حصوں کی مرمت، فولادی ڈھانچے کی صفائی،پیدل گزرگاہ کی بحالی،بوسیدہ اور پرانے لکڑی کے پھٹوں کو ہٹا کر ان کی جگہ مضبوط اسٹیل پلیٹوں کی تنصیب،داخلی راستوں کی بہتری اور فٹ پاتھ کی تعمیر و مرمت سمیت بیشتر کام مکمل کر لیے گئے ہیں اب منصوبے کے اس اہم مرحلے میں پورے پل پر خصوصی حفاظتی رنگ کیا جا رہا ہے تاکہ اسے زنگ،موسمی اثرات اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جا سکےایڈوکیٹ سہیل لطیف میمن کے مطابق رنگ و روغن کا کام مکمل ہونے کے بعد لینس ڈاؤن پل نہ صرف پہلے سے زیادہ خوبصورت اور دلکش نظر آئے گا بلکہ اس کی پائیداری اور عمر میں بھی اضافہ ہوگا پل کے فولادی ڈھانچے کو جدید معیار کے مطابق محفوظ بنانے کے لیے تمام کام ماہرین کی نگرانی میں انجام دیے جا رہے ہیں واضح رہے کہ لینس ڈاؤن پل 1889ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے دنیا کے قدیم ترین اور منفرد کینٹی لیور فولادی پلوں میں شمار کیا جاتا ہے ایک صدی سے زائد عرصے سے یہ تاریخی پل سکھر اور روہڑی کے درمیان رابطے کی اہم علامت کے طور پر موجود ہے اور اپنی منفرد طرز تعمیر کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاحوں، انجینئرز اور تاریخ دانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے شہریوں اور سماجی حلقوں نے پل کی بحالی کے کام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف ایک تاریخی ورثہ محفوظ ہوگا بلکہ سکھر اور روہڑی کی خوبصورتی اور شناخت بھی مزید نمایاں ہوگی دریائے سندھ کے نیلگوں پانیوں پر ایستادہ لینس ڈاؤن پل سکھر اور روہڑی کی مشترکہ تاریخ، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی زندہ علامت ہے 137 سال سے زائد عرصے سے یہ عظیم شاہکار دونوں شہروں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ سندھ کی تاریخی شناخت کی نمائندگی بھی کر رہا ہے اس کی مرمت اور خوبصورتی کی بحالی دراصل صرف ایک پل کی تزئین و آرائش نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی ورثے کا تحفظ ہے جو آنے والی نسلوں کو ماضی کی عظمت، انجینئرنگ کے کمال اور سندھ کی تاریخی اہمیت سے روشناس کراتا رہے گا
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]