*عاشورہ محرم کے روزے کا اجر پچھلے ایک سال کے صغیرہ گناہ معاف*
بدھ 24 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
عاشورہ یعنی دس محرم الحرام کا روزہ اسلام میں ایک اہم اور فضیلت والا روزہ ہے۔ یہ دن تاریخ انسانی میں حق و باطل کے معرکوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کی نصرت کا دن ہے۔ ذیل میں قرآن، احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں عاشورہ کے روزے کی شرعی حیثیت، اس کی تاریخ اور فضیلت۔
*عاشورہ کے روزے کا تاریخی پس منظر*
اسلام سے قبل بھی عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ اس دن کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے اور روزہ رکھتے تھے۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں، تو آپ نے اس کی وجہ دریافت فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون و اس کے لشکر کو غرق کیا تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر یہ روزہ رکھا، اس لیے ہم بھی یہ روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری نسبت ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار اور قریب ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔
*عاشورہ کے روزے کی شرعی حیثیت*
عاشورہ کے روزے کی شرعی حیثیت دو ادوار سے گزری ہے، جسے سمجھنا شرعی نقطہ نظر سے انتہائی ضروری ہے:
پہلا دور وجوب یعنی فرضیت کا تھا:
رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے، امت مسلمہ پر عاشورہ کا روزہ رکھنا فرض یا واجب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا سخت تاکید کے ساتھ حکم فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے صبح کچھ کھا لیا ہوتا، تو اسے بھی باقی دن بھوکا رہنے یعنی روزہ مکمل کرنے کا حکم دیا جاتا۔
دوسرا دور استحباب یعنی سنت مؤکدہ کا ہے: جب دو ہجری میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہو گئے، تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور یہ مستحب اور سنت کے درجے میں آ گیا۔ اب یہ بندے کی اپنی مرضی پر ہے کہ وہ رکھے یا نہ رکھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہ روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی دیا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا یعنی فرضیت ختم ہو گئی۔ اب جو چاہتا اسے رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔
مفسرین کرام قرآن مجید کی آیت کریمہ “ایاماً معدودات” یعنی گنتی کے چند دن، کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ رمضان سے قبل یہی عاشورہ وغیرہ کے روزے مراد تھے، جنہیں بعد میں رمضان کے پورے مہینے سے بدل دیا گیا۔
*عاشورہ کے روزے کی فضیلت*
احادیث مبارکہ میں اس روزے کی عظیم فضیلت بیان کی گئی ہے۔ یہ روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ یہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس روزے کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دن کے روزے کا دوسرے دنوں پر فضیلت کی وجہ سے اتنی شدت سے انتظار کرتے نہیں دیکھا جتنا اس دن یعنی عاشورہ کے دن کا اور اس مہینے یعنی رمضان کا۔
یہود کی مخالفت اور افضل طریقہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ کے آخری سال تک دس محرم کا ہی روزہ رکھتے تھے، لیکن آخر میں آپ نے یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے ایک اہم ہدایت فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ ایسا دن ہے جس کی یہودی اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاء اللہ جب اگلا سال آئے گا تو ہم نو تاریخ کا روزہ بھی رکھیں گے۔ لیکن اگلے سال کے آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ ایک اور روایت میں آپ کا فرمان ہے کہ عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو؛ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو۔
علماء اور فقہاء نے احادیث و آثار کی روشنی میں عاشورہ کے روزے کے تین مراتب بیان کیے ہیں:
پہلا اور افضل ترین مرتبہ یہ ہے کہ نو، دس اور گیارہ محرم یعنی تینوں دن کا روزہ رکھا جائے۔
دوسرا اور بہتر مرتبہ یہ ہے کہ نو اور دس محرم کا، یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھا جائے تاکہ یہود کی مخالفت ہو سکے۔
تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ صرف دس محرم کا اکیلا روزہ رکھا جائے۔ یہ جائز ہے، مگر یہود کی مشابہت کی وجہ سے بعض فقہاء کے نزدیک اکیلا روزہ رکھنا پسندیدہ نہیں ہے۔
آثار صحابہ اور سلف صالحین کا عمل:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین عاشورہ کے روزے کا اس قدر اہتمام کرتے تھے کہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔
حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم خود بھی روزہ رکھتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی رکھواتی تھیں، ہم ان کے لیے اون کا کھلونا بنا دیتیں، جب کوئی بچہ بھوک سے روتا تو ہم وہ کھلونا اس کے ہاتھ میں دے دیتیں یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔
اسی طرح حضرت ابن عباس اور حضرت ابو اسحاق سبیعی رضی اللہ عنہم کے بارے میں آتا ہے کہ وہ سفر کی حالت میں بھی عاشورہ کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے، کیونکہ رمضان کے قضا روزے تو بعد میں رکھے جا سکتے ہیں، لیکن عاشورہ کا دن ہاتھ سے نکل گیا تو دوبارہ اس سال نہیں مل سکتا۔
حاصل کلام:
خلاصہ یہ ہے کہ عاشورہ کا روزہ دین اسلام کے شعائر اور اہم ترین مستحب اعمال میں سے ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون پر فتح اور حق کی سربلندی کی یادگار ہے۔ امت مسلمہ کے لیے مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ نو اور دس محرم الحرام کا روزہ رکھیں تاکہ سنت نبوی پر عمل بھی ہو جائے، گناہوں کا کفارہ بھی بنے اور غیر مسلموں کی مشابہت سے بھی بچا جا سکے۔
وما علینا الا البلاغ المبین
الدعاَء
اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333