تصویر میں نظر آنے والی ان بہن کا نام ساجدہ ہے، جو 2014 میں فیصل آباد سے لاپتہ ہوئی تھیں اور 12 سال کی طویل اور کٹھن جدائی کے بعد الحمدللہ اب اپنے خاندان سے ملوائی جا چکی ہیں۔
یہ بہن 2014 میں فیصل آباد کی حدود سے لاپتہ ہوئیں۔ ذہنی توازن درست نہ ہونے کے باعث وہ اپنے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھیں اور گزشتہ 12 سال سے ایدھی ہوم نارتھ کراچی میں مقیم تھیں۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ’’میرا پیارا‘‘ ٹیم نے ایدھی ہوم کا دورہ کیا اور ان کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ انٹرویو کے دوران وہ اپنے نام، رہائش اور خاندان کے متعلق کچھ بھی بتانے سے بالکل قاصر تھیں۔ مسلسل کونسلنگ اور خصوصی توجہ کے بعد ان سے محدود معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق فیصل آباد کے کسی علاقے سے ہے، ان کے والد تار اور موتیوں کا کام کرتے تھے، جبکہ انہوں نے ایک مسجد کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ وہ اپنے بارے میں مزید کوئی معلومات فراہم نہ کر سکیں۔
ہماری ٹیم نے ان کی فراہم کردہ محدود معلومات کی بنیاد پر فیصل آباد میں ان کے خاندان کی تلاش شروع کر دی۔ مسلسل کوشش کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے جس مسجد کا ذکر کیا تھا، وہ فیصل آباد کے علاقے سمن آباد میں واقع ہے۔ مقامی ذرائع کی مدد سے مسجد کے امام صاحب سے رابطہ کیا گیا اور ان بہن کی تصاویر مقامی آبادی میں دکھائی گئی۔
الحمدللہ، مسلسل کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 12 سال بعد ان کے سگے بھائی سے رابطہ ہو گیا۔ مکمل تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ اس بہن کا نام ساجدہ ہے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ 2014 میں والد کی وفات کے بعد ساجدہ کا ذہنی توازن متاثر ہو گیا تھا، جس کے بعد وہ گھر سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔
ان کے بھائی کے پاس ان کا اصل شناختی کارڈ بھی موجود تھا۔ تمام دستاویزات، شناخت اور خاندانی تعلق کی مکمل تصدیق کے بعد آج انہیں بحفاظت ان کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ
واللہ المستعان