10

یہ محترمہ خواجہ آصف صاحب کی بھانجی خواجہ شیزا صاحبہ ہیں اور وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی

یہ محترمہ خواجہ آصف صاحب کی بھانجی خواجہ شیزا صاحبہ ہیں اور وفاقی وزیر آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن ہیں۔ انہوں نے قومی ا سمبلی میں بل پیش کیا کہ لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں جس گھر پر چاہیں ٹاور لگا سکتی ہیں، منع کرنے کی صورت میں 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ قومی اسمبلی سے بل منظور ہو گیا پیپلزپارٹی نے بھی ووٹ دئیے۔ سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ بعد میں پیپلز پارٹی کو پتہ چلا بل میں تو یہ لکھا ہے تو سینٹ میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے اس بل کو منظور ہونے سے روک دیا۔

اس بل کی شق کے مطابق اگر کوئی کمیونیکشن کمپنی آپ کے گھر، پلاٹ یا کھیت پر ٹاور لگانا چاہے تو وہ صرف 30 دن کا نوٹس تھما دے گی۔ نہ معاوضے کا ذکر، نہ مشاورت، اور اگر آپ نے انکار کیا تو جرمانہ تیار ہے 5 کروڑ روپے تک۔
سادہ مطلب یہ نکلا زمین آپ کی، فیصلہ کسی اور کا، اور قیمت بھی آپ ہی چکائیں۔ “NO” کہنے کا حق اب کہیں دب گیا ہے۔
قانون کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ ریاست سڑک، اسکول یا ہسپتال جیسے سچے عوامی مقصد کے لیے زمین لے سکتی ہے، مگر مالک کو منصفانہ معاوضہ ملے اور عدالت میں سوال اٹھانے کا حق رہے۔ لیکن جب بل میں “انکار پر جرمانہ” بولڈ ہو جائے، تو یہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں