*‘بین الاقوامی تعلقات کی گریجویٹ آئی ٹی وزیر بنے تو یہی ہوگا‘: متنازع ٹیلی کام بل پر شزا فاطمہ سے استعفے کا مطالبہ*
پاکستان میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے نظام کو بہتر بنانے کے نام پر ایک نیا قانون ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026‘ لایا گیا ہے۔ اس بل کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس میں ٹیلی کام کمپنیوں کو عام آدمی کی جائیداد پر قبضے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ جس کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ شدید تنقید کی زد میں ہیں اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتار، موبائل سگنلز کے مسائل اور مستقبل کی فائیو جی سروسز کی تیاری ایک عرصے سے زیرِ بحث ہیں۔ انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026‘ متعارف کروایا، جو قومی اسمبلی سے تو منظور ہوگیا تاہم اس بل کی ایک مخصوص شق نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس بل میں شامل شق ’27-بی‘ کے مطابق اگر کوئی بھی مکان مالک، دکان دار، کرایہ دار، زمیندار یا ادارہ انٹرنیٹ کمپنیوں کو اپنی حدود سے انٹرنیٹ کی فائبر کیبل گزارنے، موبائل ٹاور لگانے یا دوسرا سامان رکھنے کا راستہ دینے سے انکار کرتا ہے، یا اس کام میں دیر یا رکاوٹ پیدا کرتا ہے، تو اس پر پانچ کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے اس شق کو سب سے پہلے عوامی سطح پر اجاگر کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
رؤف کلاسرا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بل کی تیاری اور منظوری کے پیچھے سیکرٹری برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضرار ہاشم خان کا ہاتھ ہے۔
براڈ کاسٹ جرنلسٹ فواد احمد نے اس بل پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ”ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہو کر سینیٹ میں پہنچا، جہاں یہ رؤف کلاسرا کی نظروں میں آیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شہریوں کے حقوق پر شب خون مارنے کی یہ کوشش بغیر کسی روک ٹوک کے چپ چاپ کامیاب ہو جاتی۔“
جبکہ سینیئر صحافی نجم سیٹھی نے وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
نجم سیٹی نے اپنے ایک پروگرام میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”ٹیلی کام کمپنیوں نے پیسے کھلائے ہیں اور یہ بل پاس کروانے کی کوشش کر رہے تھے“۔
انہوں نے شزا فاطمہ کو خواجہ آصف کی رشتہ دار اور ’سفارشی‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ”یہ ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں، کیا انہوں نے بل پڑھا نہیں تھا؟“
نجم سیٹھی نے کہا کہ ”ایسے لوگوں کو عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔“