یہ ہیں شیزا فاطمہ
شاید ان کی واحد قابلیت خواجہ آصف کی بھتیجی ہونا ہے اور آج یہ وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصب پر فائز ہیں
لیکن ایک باریک مگر انتہائی تگڑی واردات ایسے انداز میں کی گئی کہ پورا پاکستان حیران و پریشان رہ گیا
قومی اسمبلی سے ٹیلی کام کمپنیز کے لیے ایسی سہولت کاری کروائی گئی کہ اشرف المخلوقات بھی دنگ رہ گئے
ایک ایسا غیر منصفانہ بل پاس کروا دیا گیا جس کی مثال شاید دنیا کی تاریخ میں بھی نہ ملے
اس بل کے مطابق اگر کسی ٹیلی کام کمپنی کو آپ کی دکان پلازہ یا گھر پسند آ جائے تو مالک کو صرف ایک مہینے کے اندر وہ پراپرٹی کمپنی کے حوالے کرنا ہوگی ورنہ پانچ کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے
جب یہ بل پاس ہو کر سینیٹ پہنچا تو وہاں اس پوری واردات کا انکشاف ہوا
کا کہنا تھا کہ یہ بل گزشتہ چھ ماہ سے قومی اسمبلی میں موجود تھا اور شبہ یہی ہے کہ ٹیلی کام کمپنیز نے رشوت اور اثر و رسوخ کے ذریعے اسے پاس کروایا
نجم سیٹھی نے یہاں تک کہا کہ اگر کوئی میری پراپرٹی لینے آیا تو میں اس کا مقابلہ بندوق سے کروں گا
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی ٹیلی کام کمپنیاں پہلے ہی صارفین کو روزانہ کی بنیاد پر لوٹ رہی ہیں