*
*کیپ وردے کا ووزینیا*
یہ وہ نام ہے، جسے دنیا میں نہ کوئی جانتا تھا اور نہ کوئی جاننا چاہتا تھا، مگر آج وہ دنیا کا ہیرو ہے اور جس کا مشکل سا نام سوشل میڈیا پر دنیا کے ہر شخص کیلئے حیرت اور شوق کی کہانی بنا ہوا ہے۔ صرف نوے منٹ میں اس شخص کی زندگی کی کہانی بدل گئی، گمنامی کے بادل چھٹے اور اس کی کامیابی کا سورج نصف النہار پر دکھائی دینے لگا۔
ووزینیا ایک گمنام سے ملک کیپ وردے کا رہنے والا ہے۔ اس ملک کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ نہیں۔ پتہ نہیں کیسے یہ ملک فیفا ورلڈ کپ میں پہلی بار کوالیفائی کر گیا۔ اس کا پہلا ہی میچ فیفا ورلڈ کپ کے فاتح سپین سے پڑ گیا۔ سپین فیفا ورلڈ کپ میں ایک بڑا، برا اور ناقابل تسخیر حریف تھا۔ موسٹ فیورٹ ٹیم۔ جس کی ایک تاریخ ہے۔ یہ میچ ایسے ہی تھا جیسے ایک عالمی پہلوان کسی نوزائیدہ بچے کے مقابل اتر آئے۔ میچ کیلئے کھلاڑی میدان میں اترے تو سپین کے کھلاڑیوں کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ کچھ جملے بھی کس رہے تھے۔ سپین کا بلکہ دنیا کا خیال تھا کہ آج سپین گول کرنے کا ایک تاریخی ریکارڈ بنائے گا اور ویسے یہ غلط بھی نہ تھا، ہوا بھی کچھ ایسے ہی۔ میچ شروع ہوا تو یوں لگتا تھا جیسے گراؤنڈ آدھا رہ گیا ہے۔
کیپ وردے کے کھلاڑی اتنے کمزور ثابت ہوئے کہ وہ فٹ بال سپین کی ڈی میں پہنچا ہی نہ سکے۔ سارا میچ کیپ وردے کی ڈی میں ہوتا رہا۔ جیسے سپین کو کیپ وردے کیخلاف پینالٹی کی فری ککس مل چکی ہوں۔ یہ میچ نوے منٹ کیپ وردے کی ڈی میں جاری رہا۔۔۔
لیکن یہیں سے ووزینیا کی کہانی شروع ہوتی ہے۔
ووزینیا کو چالیس سالہ عمر میں اپنا پہلا ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ یعنی اس عمر میں جب کھلاڑی ریٹائرڈ ہونے کی سوچتے ہیں۔ اتنی عمر میں ڈیبیو کرنے والا شائد یہ دنیا میں صرف دوسرا شخص ہے۔ پچیس سال کی عمر تک تو ووزینیا سرے سے فٹ بالر ہی نہ تھا۔ یہ پہلے بس پر مزدوری کرتا رہا، پھر الیکٹریشن بن گیا۔ فٹ بال مگر اس کا شوق تھا۔ اس میچ میں سب سے زیادہ بوجھ اسی پر تھا کہ وہ کیپ وردے جیسی کمزور ٹیم کا بدقسمت گول کیپر تھا۔ لیکن اس دن اس کی قسمت بدل گئی۔ سپین کی فاتح ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑی جو سرخ کپڑا دکھائے گئے بل کی طرح اس کی گول پوسٹ پر پل پڑے تھے، یہ ان کیخلاف لوہے کی ڈھال بن گیا۔ تابڑ توڑ حملوں کے سامنے یوں لگتا تھا کہ یہ اکیلا شخص آہنی دیوار بن گیا ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس نے ایک بھی گول ہونے نہ دیا۔ اس میں جانے کیا بجلیاں بھرگئیں۔ سات تو یقینی گول اس نے بچائے ، یعنی وہ گول جو دنیا کا کوئی بھی گول کیپر ہوتا تو ہونے یقینی ہی تھے۔ سپینش ٹیم کو یوں لگتا تھا شائد آج ان کیلئے گول پوسٹ کے درمیان کوئی دیوار کھڑی کردی گئی ہے۔ وہ نوے منٹ تابڑ توڑ کوشش کرتی رہی مگر سکور بورڈ پر ان کا گول صفر تھا۔ بالآخر میچ ختم ہوا اور کیپ وردے سپین کے مقابلے میں برابری کے ساتھ ڈٹ کے کھڑی تھی۔ سپین جیسے پہلوان کے مقابل کیپ وردے جیسی نوزائیدہ ٹیم برابری کی سطح پر کھڑی تھی اور یہ صرف ووزینیا کی وجہ سے تھا۔
سوشل میڈیا پر اس شخص کے اکاؤنٹ کو آگ لگ گئی۔ پچاس ہزار سے اڑ کر اس کے فالورز کی تعداد سات ملین سے زیادہ تک پہنچ گئی۔ یہ مین آف دی میچ قرار پایا۔ اس دوران گفتگو کرتے ہوئے یہ شخص رو پڑا۔ کہنے لگا میں فٹ بال کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جو ہر بار آکے مجھی سے ٹکرایا۔ یہ رویا اس وجہ سے کہ اس کی زندگی کا وہ میچ جس نے اسے ہیرو بنا دیا، اسے دیکھنے کیلئے گراؤنڈ میں کوئی اس کا اپنا موجود نہ تھا۔ وہ دادا دادی جنھوں نے اسے دنیا کی ہر چیز مہیا کرکے پالا تھا ، وہ اس دنیا میں نہ تھے، ماں جس نے اسے جنا تھا، وہ دور اپنے ملک بیٹھی تھی کہ اس کے پاس اسے سفر کروانے کے پیسے نہ تھے۔ لیکن اس نوے منٹ کے مقابلے نے اب اس کا ریٹ بہت بڑھا دیا ہے۔ اس کی شہرت کو آسمان تک پہنچا دیا ہے، اب اس کی ماں ٹورنامنٹ دیکھنے آ سکے گی۔
یہ کہانی بہت کچھ ثابت کرتی ہے۔ لیکن ایک بات یہ کہ آپ کا وقت آنے پر آپ کو بلندی پر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ جب وقت آتا ہے تو پھر نوے منٹ میں آدمی زیرو سے ہیرو اور گمنام سے عالمی شہرت یافتہ پرسینالٹی بن جاتا ہے۔ لیکن نوے منٹ کا یہ وقت پانے کیلئے آپ کو ٹھیک مقام پر موجود رہنے کی استقامت دکھانی پڑتی ہے۔ آپ کو کمتر حالات کے ساتھ زور آزمائی کرتے ہوئے جینا پڑتا ہے اور پھر جب وقت آتا ہے تو دنیا یوں ٹوٹ کے آپ پر گرتی ہے کہ آپ کی قسمت لمحوں میں صدیوں کے فاصلے طے کر جاتی ہے۔ بس سبق یہ ہے کہ موجود رہئے، مضبوط رہئے اور باقی سب قسمت پر چھوڑ دیجئے۔ قسمت کا سپرنگ کسی بھی وقت آپ کو اچھال کے منظر پر یوں لا سکتا ہے کہ پھر دور افق پر آپ کے منظر کے سوا دوسرا کوئی منظر اور نظارہ نہ ہوگا۔