11

*جامعہ کراچی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، طلبہ کو انٹرن شپ اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی*

*جامعہ کراچی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، طلبہ کو انٹرن شپ اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے درمیان باہمی تعلیمی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعاون کے فروغ کے لیے جمعرات کے روز وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔مفاہمتی یادداشت پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی اور سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسرنے دستخط کئے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت جامعہ کراچی کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو سی ٹی ڈی میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، جبکہ شعبۂ کمپیوٹر سائنس سی ٹی ڈی کے افسران و اہلکاروں کو کمپیوٹر سے متعلق تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا۔مذکورہ معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں اداروں کے درمیان مؤثر ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہےاور انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے طلبہ کو عملی منصوبوں (Live Projects) پر کام کرنے کا موقع ملے گا، جس سے انہیں صنعتی شعبے کا عملی تجربہ اور جدید تکنیکی مہارتیں حاصل ہوں گی۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے تیسرے اور آخری سال کے طلبہ کو ایک منظم انٹرن شپ پروگرام کے لیے منتخب کیا جائے گا، جس کا مقصد ان کی سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا اینالیسس اور دیگر تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ منتخب طلبہ کو حقیقی نوعیت کے تکنیکی منصوبوں پر کام کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس سے انہیں عملی میدان کی ضروریات اور چیلنجز سے آگاہی حاصل ہوگی۔اس موقع پر سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے کہا کہ ان کا محکمہ جامعات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں تشدد پر مبنی سوچ اور رویوں کے خاتمے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، اور جامعات اس مقصد کے حصول کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ادارے اس امر سے متفق ہیں کہ ٹیکنالوجی پر مبنی جدت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جامعہ کراچی کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر صادق علی خان نے کہا کہ شعبہ سی ٹی ڈی افسران کی استعداد کار میں اضافے کے لیے عملی اور مؤثر تربیت فراہم کرے گا تاکہ انہیں جدید تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت کے باعث ملک کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا رہتا ہے، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، باصلاحیت اور پُرعزم فورسز ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی صوبے کی نمایاں انسدادِ دہشت گردی ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ شعبۂ کمپیوٹر سائنس اور سی ٹی ڈی نے جدید کمپیوٹنگ ٹولز، تکنیکی ترقی اور ڈیٹا مینجمنٹ سے متعلق خصوصی مختصر دورانیے کے کورسز متعارف کرانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شعبۂ کمپیوٹر سائنس سی ٹی ڈی اہلکاروں کے لیے سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ پروگرامز کے اجراء کے ساتھ ساتھ ان کی عملی ضروریات کے مطابق تربیتی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ورکشاپس بھی منعقد کرے گا۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں سی ٹی ڈی کے انچارج ڈیجیٹل فرانزک ذیشان عمر، ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سید عرفان بہادر، جامعہ کراچی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر زعیمہ اسرار محی الدین، قائم مقام ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر نسرین فاطمہ، شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے اساتذہ، ایڈیشنل رجسٹرار ارمان احمد، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) ڈاکٹر سیدہ حورالعین، اورک کی ٹیم اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں