عرسِ تقریبات سلطان الاولیاءؒ حضرت میاں سلطان ذکریا و حضرت بابا جی سید محمد امیر آف میانوالی
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
پاکستان کی سرزمین اولیائے کرام، صوفیائے عظام اور بزرگانِ دین کی روحانی برکات سے مالا مال ہے۔ انہی عظیم ہستیوں میں فخرِ سادات، سلطان الاولیاء، والیٔ میانوالی حضرت میاں سیدنا سلطان زکریاؒ اور حضرت بابا جی سید محمد امیر صاحبؒ کا نام نہایت عقیدت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان بزرگوں کی دینی، روحانی اور اصلاحی خدمات آج بھی لاکھوں دلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کے سالانہ عرسِ مبارک کی تقریبات محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ روحانی تربیت، محبت، اخوت اور اتحادِ امت کا عملی مظہر ہوتی ہیں۔
میانوالی میں منعقد ہونے والی امسال کی عرس تقریبات بھی نہایت عقیدت، ادب اور روحانی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئیں۔ ختمِ قرآنِ مجید کی مرکزی محفل دربارِ سلطان العارفین حضرت بابا حاجی محمد امیر صاحبؒ، محلہ میانہ میانوالی میں سجائی گئی جہاں میانوالی سمیت گرد و نواح کے اضلاع سے آنے والے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کرکے اولیائے کرام سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔
محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد درود و سلام، کلمہ طیبہ کے اذکار، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور منقبت خوانی نے حاضرین کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کر دیا۔ جب جید علمائے کرام نے قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ، محبتِ رسول ﷺ، سیرتِ اولیاء اور کردار سازی کے موضوعات پر خطاب کیا تو محفل پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔ سامعین نہ صرف ان خطابات سے مستفید ہوئے بلکہ انہیں اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی عملی رہنمائی بھی حاصل ہوئی۔
عرس کی ان بابرکت تقریبات میں ممتاز عالمِ دین مفتی محمد الطاف محمود سیالوی نے نواسۂ رسول ﷺ، امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؑ کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کے عظیم پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے حق، صداقت، عدل اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جو لازوال قربانی پیش کی، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ کربلا ہمیں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، حق کا ساتھ دینے اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قربانی دینے کا درس دیتی ہے۔
عرس پاک کی تمام تقریبات کی صدارت فخرِ سادات حضور بابا جی سید میاں ممتاز پرویز شاہ، صاحبزادہ عالیشان سید میاں امیر عاصم شاہ اور صاحبزادہ سید میاں امیر مزمل شاہ نے کی۔ ان شخصیات کی موجودگی نے محفل کو مزید وقار بخشا۔ انہوں نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات محبت، رواداری، امن، بھائی چارے اور خدمتِ خلق پر مبنی ہیں اور آج کے دور میں انہی تعلیمات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اولیائے کرام کے عرس درحقیقت ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں نے اپنی زندگیاں دینِ اسلام کی خدمت، انسانیت کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔ ان کی خانقاہیں علم، معرفت، محبت اور اخلاق کا مرکز تھیں جہاں ہر آنے والے کو بلا تفریق عزت، احترام اور روحانی سکون ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے مزارات عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض بنے ہوئے ہیں۔
میانوالی میں منعقد ہونے والی یہ روحانی تقریبات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ اہلِ پاکستان اپنے اکابرینِ دین اور اولیائے کرام سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ایسے اجتماعات نئی نسل کو اپنی دینی و روحانی روایات سے جوڑنے، محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیتؑ کے فروغ اور معاشرے میں اخوت و اتحاد کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اولیائے کرام کی تعلیمات کو صرف عرس کی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ہم محبت، رواداری، برداشت، خدمتِ خلق اور تقویٰ جیسی صفات کو اپنالیں تو ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
عرسِ سلطان الاولیاءؒ اور حضرت بابا جی سید محمد امیر صاحبؒ کی یہ بابرکت تقریبات اپنے اختتام کے باوجود اہلِ دل کے قلوب میں روحانیت، محبت اور ایمان کی وہ شمع روشن کر گئی ہیں جس کی روشنی دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ یہی اولیائے کرام کی تعلیمات کا حقیقی فیض اور ان کے مشن کی اصل کامیابی ہے۔