11

معصوم خدیجہ کی ہوپ ازقلم غنی محمود قصوری یہ دنیا امید پر قائم ہے

معصوم خدیجہ کی ہوپ

ازقلم غنی محمود قصوری

یہ دنیا امید پر قائم ہے
کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور
یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا
مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی

اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی
تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
آمین ثم آمین

پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
03041472158
بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین
#قصوریات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں