سفارش،نا انصافی اور قومی بحران
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں نا انصافی اور سفارش بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔سفارش اور ناانصافی سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔سفارش کےزور پر عہدے حاصل کر لیے جاتے ہیں،حالانکہ حاصل کرنے والا اہل نہیں ہوتا۔نا اہل کا عہدہ حاصل کرنا نا انصافی کہلاتا ہے۔سفارش کےذریعے سزا بھی معاف کر دی جاتی ہے،اس طرح سزا معاف کرنا ظلم کہلاتا ہے اور یہ بھی نا انصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہو چکا ہے نیز روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔میرٹ کے نظام کا خاتمہ ہونے سے ملک میں کئی قسم کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔قابل افراد کی حق تلفی ہو رہی ہے۔قابل فرد جب دیکھتا ہے کہ نا اہل نوازے جا رہے ہیں تو اس کے اندر غصہ پیدا ہوتا ہے اور یہ غصہ اس کو جرائم کی طرف راغب کر دیتا ہے۔چوری، ڈکیتی،کرپشن اور دیگر جرائم میں اضافہ ناانصافی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اقربا پروری نے بھی پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔سیاست سے بھی نظام میں بڑی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔حکمران طبقہ ان افراد کو نوازتا ہے،جو اس کو ووٹ دیتے ہیں۔پاکستان میں ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے سماجی فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔امیر،امیر تر اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے جب عہدے نا اہل لوگوں کو ملیں تو وہ کرپشن بھی کرتے ہیں اور ظلم وجبر بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت یا حاصل کیا گیا عہدہ،معاشرے میں بہت بڑے بحران پیدا کر دیتا ہے۔انصاف کا حصول انتہائی مشکل ہے لیکن دولت سے انصاف آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے،چاہے انصاف کی بجائے ظلم ہی کیوں نہ کیا جا رہاہو۔ایک غریب یا مجبور آدمی سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود بھی اپنا حق حاصل نہیں کر پاتا،لیکن طاقتور اور باختیار فرد آسانی سے بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے۔
انصاف کسی قوم یا ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔جو معاشرے انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں اور نا انصافی وسفارش کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔اسلام نے عدل و انصاف کا خصوصی حکم دیا ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے”اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو”(النساء.58) دین اسلام میں انصاف کی خصوصی تاکید کی گئی ہے اور سفارش یا اقربا پروری سے منع کیا گیا ہے۔اللہ تعالی نے خالص انصاف کا حکم دیا ہے تاکہ کامیابی کا حصول ممکن ہو سکے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے بھی عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑا جائے۔اسی طرح کسی قوم کی دوستی یا رشتہ داری کی وجہ سے بھی عدل و انصاف کا نظام برحال میں قائم رکھا جائے۔قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے”کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو،انصاف کرو یہی تقوی کے زیادہ نزدیک ہے”(المائدہ.8) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی یہی درس دیا ہے کہ انصاف کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے،اگر انصاف کی وجہ سے قریبی فرد بھی متاثر ہو رہا ہو تو پھر بھی نا انصافی نہ کی جائے۔انصاف کرتے وقت کسی سفارش کو بھی مد نظر نہ رکھا جائے۔ایک حدیث کے مطابق،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ قریش قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نےچوری کی تھی کافی فکرمند ہوئے،وہ کہنے لگے اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟لوگوں نے جواب دیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟چنانچہ اسامہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے گفتگوکی تو آپ نے فرمایا”کیا تم اللہ کے حدود میں ایک کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا”لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس روش کی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب اعلی خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا(بھی)ہاتھ کاٹ دیتا”(ترمذی) کوئی بھی قوم محبت اور نفرت کی پرواہ کیے بغیر انصاف کا نظام قائم کر لے تو وہ ہلاک نہیں ہوتی۔ناانصافی اور سفارش سے معاشرہ سدھرنے کی بجائےبگڑتا رہتا ہے۔
پاکستان میں عدل و انصاف کا نظام بہت حد تک بگڑ چکا ہے۔سرکاری نوکریوں کےحصول کے لیے سفارش کا سہارا لیا جاتا ہے،اس طرح ناانصافی جنم لیتی ہے۔ناانصافی اورسفارش سے نااہل افراد عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جب نااہل عہدے سنبھال لیں تو میرٹ کی پامالی عام ہو جاتی ہے اور عدل و انصاف بھی ناپید ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ایسے حکمران کا انتخاب کرنا چاہیے جواہل ہو۔نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک انتہائی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔حکمرانوں کی نااہلیت نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہت زیادہ خراب کر دیا ہے۔سیاسی عدم استحکام بھی بہت بڑھ چکا ہے۔اگر سفارش کو نظر انداز نہ کیا گیا تو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر انصاف کا نظام قائم کر دیا گیا تو نوجوانوں میں اعتماد بڑھے گا۔ہر نوجوان اگر یہ سمجھ لے کہ حقدار کو حق مل رہا ہےتو وہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنی خدمات بہتر طور پر سر انجام دینا شروع کر دیں گے۔معاشی طور پر ملک مستحکم ہو جائے گا۔قانون کی بالادستی اور اداروں کی خود مختاری کے لیے ضروری ہے کہ سفارش اور نا انصافی کے کلچر کو ختم کیا جائے۔تمام اداروں کو رشوت،کرپشن،سفارش وغیرہ سے پاک کرنا ہوگا۔انصاف اور میرٹ سےپاکستان ترقی کی منازل طے کرے گا اور عالمی وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔
کوی تو بھید اور بھرم رکھتا اپنا تھا، اتنا تو کرم رکھتا
ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور زون انعام اللہ خان گنڈاپور نے مردان اسپورٹس کمپلیکس کا دورہ۔
چارسدہ میں پہلی مرتبہ ڈریگن بوٹ فیسٹیول کا شاندار انعقاد کیا گیا۔
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ پہلی سالانہ مینیجرز
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ؛ ایران کے میزائل شہروں کی بقا کا راز کیا ہے؟