11

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور حل تحریر: اللہ نواز خان

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور حل
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
موسمیاتی تبدیلیاں پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہیں اورپاکستان بھی شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔بڑھتا درجہ حرارت،بے موسمی اور غیر متوقع بارشیں،گلیشیئر کا تیزی سے پگھلنا،سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل پاکستان کی معیشت کے علاوہ انسانی زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔گرمی اور سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ انتہائی تشویش ناک ہے۔اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے گرمیوں کا دورانیہ طویل ہو رہا ہے۔سردیوں کا دورانیہ کم ہوتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔عالمی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے قطب شمالی کی ٹھنڈی ہوائیں مختلف ممالک کی طرف رخ کر لیتی ہیں،جس سے سردی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ان ہواؤں سے پاکستان بھی متاثر ہوتا ہے۔سردی کی شدت سے دھند اور سموگ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئر پگھلتے ہیں،جن کی وجہ سے گلیشئری جھیلیں بنتی ہیں اور پانی کا دباؤ یہ جھیلیں برداشت نہیں کر سکتی۔نتیجہ سیلابوں کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ گلشئیری سیلاب سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔سردی اور گرمی کی شدت میں اضافہ کئی قسم کے مسائل پیدا کر دیتا ہے۔شدید گرمی اور شدید سردی فصلوں کے علاوہ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اکثر اوقات غیر متوقع بارشیں شروع ہو جاتی ہیں۔غیر متوقع بارشوں سے فصلوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔تیز آندھیاں اور طوفان بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔گندم کے علاوہ کپاس اور دیگر اجناس کی فصلیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔سیلاب اور تیز بارشوں کی وجہ سےبھی فصلوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے انسانی صحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔گرمی کی شدت کی وجہ سے ہیٹ سٹروک،پانی کی بیماریاں اور کچھ دیگر بیماریاں دیکھنے میں نظرآتی ہیں۔
کارخانوں میں کوئلہ،تیل اور گیس کا بطور ایندھن استعمال ہوتاہے اور اس سے دھواں خارج ہوتا ہے جو کہ انتہائی نقصان دہ ہے۔گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی ماحول کو خراب کر رہا ہے۔پلاسٹک کا استعمال بھی بہت بڑھ رہا ہےاوراس کے نقصانات بھی بہت سے ہیں۔پلاسٹک سے ماحول آلودہ ہوجاتا ہے اور اس سے آبی الودگی بھی پھیلتی ہے۔زیادہ گرمی کے موسم میں پانی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے اور فصلوں کو بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔انسانی ضروریات کے لیے پانی کی عدم دستیابی عام مسئلہ بن جاتی ہے اور اگر فصلوں کو بھی بروقت پانی نہ ملے تو فصلیں بھی مقررہ پیداوار نہیں دیتیں۔قدرتی آفات سے بھی فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اکثر اوقات زیادہ بارشیں یا طوفانوں اورژالہ باری سے سخت نقصان پہنچتا ہے،بعض اوقات تو فصل مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے۔سیلاب صرف فصلوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ ان رقبوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں جہاں فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔سیلابوں کے بعد رقبہ جات کو فصلوں کے لیے دوبارہ تیار کیا جاتا ہے جو کہ انتہائی مہنگا عمل ہوتا ہے۔درج بالا تمام مسائل موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ان موسمیاتی تبدیلوں کا اگر مقابلہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتہائی خوفناک نتائج نکلیں گے۔فضا زہرآلودہ ہوتی جائے گی اورآلودہ فضا میں سانس لینا خاصہ خطرناک ہوگا۔ان تبدیلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے درختوں کو کاٹنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔شجرکاری کی فوری ضرورت ہے۔حکومت سنجیدگی سے درخت اگانے کی مہم شروع کرے۔بلا ضرورت درخت کاٹناقانونی طور پر ممنوع کرا دیا جائے۔ایسی سکیمیں شروع کر دی جائیں جس سے شہری زیادہ سے زیادہ درخت اگائیں۔فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں فلٹر کیا جائے اور ماحول دوست گاڑیاں چلانے کی ضرورت ہے۔تیل پر چلنے والی گاڑیوں کی نسبت الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست ہوتی ہیں،لہذا ماحول دوست ٹرانسپورٹ چلانی چاہیے۔نجی گاڑی کی نسبت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کو ترجیح دی جائے۔پیدل یا سائیکل کے ذریعے بھی سفر کرنا صحت کے علاوہ ماحول کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔بہت سی بیماریاں پیدل چلنے یا سائیکل کے ذریعے سفر کرنے سے کنٹرول ہو جاتی ہیں۔غیر ضروری بجلی کا استعمال ختم کیا جائے۔دفاتر یا گھروں میں ضرورت کے مطابق بجلی کا استعمال کیا جائے۔پانی کا ضیاع بھی روکنا ہوگا۔وضو،غسل،گاڑی یا کپڑے دھوتے وقت پانی کا استعمال انتہائی کم کیا جائے۔روایتی ایندھنوں(تیل, کوئلہ وغیرہ) کی نسبت سولر انرجی کا استعمال بڑھایا جائے۔چھوٹے اور بڑےڈیم تعمیر کرنا ہوں گے۔بارشوں کا پانی سٹور کرنے کے لیے تالاب تعمیر کیے جائیں اور اس پانی کو پینے یا دیگر ضروریات کے علاوہ فصلات کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔زراعت کو جدید طریقوں پر متقیل کیا جائے اور ایسی فصلیں کاشت کی جائیں،جو گرم موسم میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں۔کوڑا کرکٹ کو بہتر طریقے سے ضائع کیا جائے۔کوڑا کرکٹ کو بطور کھاد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔بہتر تویہ ہے کہ کوڑاکرکٹ ری سائکل کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔اس کی وضاحت ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ماحول زیادہ خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔خصوصا جن ممالک میں انڈسٹریز زیادہ ہیں یاتوانائی کے ذرائع زیادہ استعمال کر رہے ہیں،وہ زیادہ موسمیاتی تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں۔بہرحال پاکستان میں ان تبدیلیوں کا مقابلہ فوری طور پر شروع کر دینا چاہیے۔شجرکاری پر زیادہ خرچ نہیں آتا،بعض اوقات تو بالکل مفت بیج یاپودے کے ذریعے درخت اگائے جا سکتے ہیں۔حکومت کے علاوہ عوام کو بھی مل کر کام کرنا ہوگا۔اگر بروقت سدباب نہ کیا گیا تو مستقبل میں پیدا ہونے والے مسائل سے نپٹنا مشکل ہو جائے گا۔ڈیمز بنانا بھی ضروری ہیں اورپانی کو ضائع بھی نہ کیا جائے۔اگر موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر حد تک کنٹرول کر لیا جائے تو انسانی صحت بہتر ہونےکے علاوہ فصلیں بھی بہتر اگنا شروع ہو جائیں گی۔صاف ماحول انسانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ہمیں فوری طور پر کام شروع کر دینا چاہیے جتنا ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں