6

محمد حذیفہ — خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

محمد حذیفہ — خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

معاشرے کی حقیقی خوبصورتی بلند و بالا عمارتوں، جدید سہولیات یا معاشی ترقی سے نہیں بلکہ ایسے انسانوں سے قائم رہتی ہے جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور اپنی ذات سے بڑھ کر انسانیت کی بھلائی کے لیے سوچتے ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔ ضلع خوشاب کی معروف سماجی شخصیت محمد حذیفہ بھی انہی مخلص اور دردِ دل رکھنے والے افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنا رکھا ہے۔
محمد حذیفہ گزشتہ کئی برسوں سے سماجی اور فلاحی میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے کردار اور عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کی انسان دوستی، اخلاق اور خدمت کے جذبے سے ہوتی ہے۔ وہ بلا رنگ و نسل، بلا تفریق اور بلا کسی ذاتی مفاد کے ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اور سماجی حلقوں میں ان کا نام عزت، اعتماد اور احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
خوشاب اور گردونواح کے لوگ محمد حذیفہ کو ایک ایسے نوجوان سماجی کارکن کے طور پر جانتے ہیں جو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے مسائل کو محسوس بھی کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ خدمتِ خلق کو محض ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔
صحت کے شعبے میں ان کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ غریب اور نادار مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے انہوں نے ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ مختلف مواقع پر فری میڈیکل کیمپوں کے انعقاد میں ان کی کاوشیں نمایاں رہی ہیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں سینکڑوں مستحق افراد کو مفت طبی معائنہ، ادویات اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت حاصل ہوئی۔ ایسے لوگ جو مالی مشکلات کے باعث مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، ان فلاحی سرگرمیوں سے براہِ راست مستفید ہوتے ہیں۔
محمد حذیفہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ہر اس کوشش کا حصہ بنتے ہیں جس سے لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا ہو۔ ان کے نزدیک خدمتِ انسانیت صرف مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ کسی کے مسائل سننا، اس کی رہنمائی کرنا اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔
ان کی سماجی خدمات کا دائرہ صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ وہ مختلف فلاحی اور عوامی سرگرمیوں میں بھی متحرک نظر آتے ہیں۔ معاشرتی ہم آہنگی، نوجوانوں کی مثبت رہنمائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی دلچسپی قابلِ تعریف ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔
محمد حذیفہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی عاجزی اور انکساری بھی ہے۔ بے شمار فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے باوجود وہ کبھی اپنی خدمات کی تشہیر کے خواہاں نظر نہیں آتے۔ وہ خاموشی سے لوگوں کی مدد کرنا اور ان کے چہروں پر خوشی بکھیرنا پسند کرتے ہیں۔ یہی اوصاف انہیں عوام کے دلوں کے قریب لے جاتے ہیں اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کرتے ہیں۔
جب ان سے خدمتِ خلق کے جذبے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ نہایت سادگی سے کہتے ہیں کہ “دکھی انسانیت کی خدمت کر کے مجھے دلی سکون اور روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ جب کسی ضرورت مند کی مشکل آسان ہوتی ہے یا کسی مریض کو علاج کی سہولت ملتی ہے تو یہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انشاء اللہ میں مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرتا رہوں گا۔”
حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں، جب ذاتی مفادات اور مادّی ترجیحات نے معاشرتی اقدار کو متاثر کیا ہے، محمد حذیفہ جیسے لوگ امید، محبت اور انسان دوستی کی روشن مثال بن کر سامنے آتے ہیں۔ ان کا عملی کردار نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ کامیابی صرف اپنی ذات کے لیے جینے میں نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں بھی ہے۔
بلاشبہ محمد حذیفہ ضلع خوشاب کا ایک قابلِ فخر نام ہیں۔ ان کی سماجی خدمات، خلوصِ نیت اور خدمتِ انسانیت کا جذبہ انہیں معاشرے کے ان افراد کی صف میں کھڑا کرتا ہے جو اپنے اعمال سے دوسروں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید توفیق، ہمت اور استقامت عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا یہ روشن سفر جاری رکھ سکیں اور معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں