میرپورخاص (شاھدمیمن) ایف پی سی سی آئی کے سابق رکن، ایوان ہائے صنعت و تجارت میرپورخاص کی ایگزیکٹو کمیٹی کے نمائندے اور مجید پمپس کمپنی کے سی ای او جابر مجید نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غریب، مزدور، کسان اور متوسط طبقے کے لیے مایوس کن بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں معاشی استحکام اور ترقی کے دعوے تو کیے ہیں، تاہم عام آدمی کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نجات دلانے کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی پیش نہیں کی گئی اپنے بیان میں جابر مجید نے کہا کہ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، دودھ، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ وفاقی بجٹ میں عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی جامع اور مؤثر پیکیج دکھائی نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، کسان بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث پریشان ہیں جبکہ مزدور طبقہ روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے مگر بجٹ میں ان طبقات کے مسائل کے حل کے لیے کوئی غیر معمولی یا عملی اقدام شامل نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام تر توجہ مالیاتی اہداف حاصل کرنے اور محصولات میں اضافے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے جبکہ عوامی فلاح و بہبود، روزگار کی فراہمی، سستی تعلیم، معیاری طبی سہولیات اور مہنگائی کے خاتمے جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں جابر مجید نے کہا کہ پاکستان، چین اور سعودی عرب تقریباً ایک ہی دور میں آزاد ہوئے تھے تاہم چین نے اپنی صنعتوں کو سہولیات فراہم کرکے غیر معمولی ترقی حاصل کی انہوں نے کہا کہ چین کی معاشی ترقی کا ایک بڑا راز اپنی صنعتوں کو سستی توانائی، جدید سہولتوں اور حکومتی سرپرستی فراہم کرنا ہے چین نے صنعتی شعبے کو کم لاگت توانائی، کاروبار دوست پالیسیوں اور مضبوط حکومتی تعاون کے ذریعے مستحکم کیا جس کے نتیجے میں اس کی صنعت نے تیزی سے ترقی کی اور آج چین دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ترقیاتی ماڈل سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس پاکستان میں صنعتکار مہنگی بجلی، گیس اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جس کے منفی اثرات صنعتی ترقی، برآمدات اور روزگار کے مواقع پر مرتب ہو رہے ہیں بجٹ میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں واضح کمی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عام شہری کی زندگی کو آسان بنانے کے حوالے سے بھی کوئی بڑی پیش رفت نظر نہیں آتی جابر مجید کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو ایسے بجٹ کی ضرورت تھی جس میں غریب اور متوسط طبقے کو براہ راست ریلیف ملتا، مگر بدقسمتی سے یہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیتا انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، بجلی و گیس کے نرخوں میں کمی لائی جائے، صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کی جائے اور غریب، مزدور، کسان اور متوسط طبقے کو حقیقی ریلیف دیا جائے تاکہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی آسکے انہوں نے کہا کہ جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری اور آسانی نہیں آتی اس وقت تک معاشی ترقی کے دعوے عوام کے لیے محض اعداد و شمار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]