*انتہائی غور طلب بات ۔۔۔۔*
تحریر: ایک اللہ کا بندہ
آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں انسان معلومات کی کمی کا شکار نہیں بلکہ صحیح فیصلہ سازی کے بحران کا شکار ہے۔ بظاہر تعلیم بڑھ رہی ہے، ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، معلومات کے ذخیرے ہاتھوں میں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود فرد پریشان ہے، خاندان منتشر ہیں، معاشرے تقسیم ہیں اور قوم بار بار ایسی غلطیوں کا شکار ہو رہی ہے جن کے نتائج دہائیوں تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے؟ کیا انسان کے پاس علم کم ہے یا کوئی اور چیز مفقود ہے؟؟
ذرا نہیں۔۔۔۔ مکمل سوچیے۔۔
**********************
*آپ کی تحریر کا مخلصانہ جواب*
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
السلام علیکم و رحمہ۔
آپ نے ایک انتہائی گہرا، فکر انگیز اور وقت کی اہم ترین ضرورت پر مبنی سوال اٹھایا ہے۔ اس تحریر میں جس بحران کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
اگر ہم مکمل سوچیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے پاس علم (Information) کی کمی نہیں، بلکہ حکمت (Wisdom) اور بصیرت (Insight) کی گمشدگی ہے۔
مسئلہ کہاں ہے؟ اس کو چند بنیادی نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
۱۔ معلومات کا سیلاب اور فہم کا قحط (Data vs Wisdom)
آج ہمارے پاس معلومات (Information) کا تو ڈھیر ہے، لیکن وہ “علم” یا “حکمت” میں تبدیل نہیں ہو پا رہی۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے ہمیں ہر چیز کے بارے میں ‘کچھ نہ کچھ’ جاننے والا تو بنا دیا ہے، لیکن گہرائی سے سوچنے اور حق سچ کو پرکھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ ہم معلومات تو روزانہ لاکھوں ٹن کنزیوم (Consume) کرتے ہیں، مگر اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔
۲۔ جذباتیت اور فوری ردِعمل (The Loss of Critical Thinking)
آج کا انسان “فوری” نتائج چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور نے ہماری توجہ کا دورانیہ (Attention Span) کم کر دیا ہے۔ ہم کسی بھی خبر، واقعے یا نظریے کی تہہ تک پہنچے بغیر، صرف اپنے جذبات یا پسند ناپسند کی بنیاد پر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ جب فیصلے سچائی کے بجائے “لائیکس”، “ٹرینڈز” اور “پروپیگنڈے” کی بنیاد پر ہوں گے، تو معاشرے تقسیم ہی ہوں گے۔
۳۔ اخلاقی اور روحانی اقدار سے دوری (Erosion of Character)
تعلیم صرف ڈگریوں اور ٹیکنالوجی کا نام بن کر رہ گئی ہے، جبکہ تربیت اور کردار سازی پسِ پشت چلی گئی ہے۔ جب علم کو اخلاقیات اور اقدار سے الگ کر دیا جائے، تو وہ انسان کو طاقتور تو بنا سکتا ہے، مگر دانشور یا اچھا فیصلہ ساز نہیں بنا سکتا۔ صحیح فیصلہ سازی کے لیے ایک مضبوط اخلاقی قطب نما (Moral Compass) کی ضرورت ہوتی ہے، جو آج مفقود ہے۔
۴۔ خواہشِ نفس اور انا کا غلبہ
اکثر اوقات انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ صحیح راستہ کیا ہے (یعنی علم موجود ہوتا ہے)، لیکن اس کی انا، ذاتی مفاد یا تعصب اسے صحیح فیصلہ کرنے نہیں دیتے۔ ہم وہ فیصلہ نہیں کرتے جو “حق” ہوتا ہے، بلکہ وہ کرتے ہیں جو ہماری “انا” یا “گروہ” کو پسند ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام:
مسئلہ علم کی کمی کا نہیں، بلکہ علمِ نافع (ایسا علم جو عمل اور بہتری کی طرف لے جائے) اور حکمت کی کمی کا ہے۔ جب تک تعلیم کے ساتھ تربیت، معلومات کے ساتھ تفکر، اور عقل کے ساتھ دل کی روشنی (بصیرت) شامل نہیں ہوگی، انسان معلومات کے اس سمندر میں پیاسا بھی رہے گا اور بھٹکتا بھی رہے گا۔
آپ کی اس تحریر نے واقعی سوچ کے بند کواڑ کھولنے کی ایک مخلصانہ کوشش کی ہے
جزاک اللہ خیرا
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
0092300860 4333