وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں وائس چانسلر کے ساتھ اوپن ہاؤس اجلاس۔
اس موقع پر اساتذہ و عملے کا طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں شخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی موجودگی میں ایک اہم اوپن ہاؤس اجلاس منعقد ہوا، جس میں اساتذہ اور عملے نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد جامعہ کو درپیش مختلف امور پر کھلے اور براہِ راست مکالمے کے ذریعے تبادلۂ خیال کرنا اور کراچی کیمپس میں جاری صورتحال پر غور کرنا تھا۔اجلاس میں اسلام آباد کیمپس کے تقریباً تمام اساتذہ اور ملازمین نے شرکت کرتے ہوئے انتظامیہ اور جامعہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد طلبہ کو معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس کے دوران شرکاء بالخصوص مختلف شعبہ جات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور اساتذہ نے کراچی کیمپس میں بعض عناصر کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے، طلبہ کو ہراساں کرنے اور امتحانی عمل متاثر کرنے کے واقعات پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔ اساتذہ نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط کے منافی ہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسلام آباد کیمپس کی قیادت اور اساتذہ نے اس موقع پر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیمپس میں تمام امتحانات اعلان کردہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے اور کسی بھی صورت طلبہ کے تعلیمی مفادات کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ جامعہ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں کسی بھی ذاتی مفاد یا گروہی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے طلبہ کے لیے محفوظ، پُرامن اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر اسلام آباد کیمپس کے اساتذہ اور عملے نے جامعہ میں نظم و ضبط، امن و امان اور تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شیخ الجامعہ اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف ضابطے کے مطابق مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ جامعہ کا تعلیمی وقار اور طلبہ کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔جامعہ اردو اسلام آباد کیمپس کے اساتذہ نے ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کو ایک باوقار اکیڈمک لیڈر اور استاد قرار دیا۔ اساتذہ کا ماننا تھا کہ ڈاکٹر شنواری کے آنے کے بعد یونیورسٹی کے مسائل کم ہوئے ہیں۔ انتظامی امور بہتر ہوئے ہیں۔ انفراسٹرکچر بہتر ہوئے ہیں۔ ایڈمیشن کی شرح بڑھی ہے۔اساتذہ نے مختلف معاملات پر شیخ الجامعہ کے ساتھ اوپن بحث کی۔ ڈاکٹر شنواری کا کہنا تھا کہ اخلاف رائے کو نہ صرف برداشت کیا جائے گا بلکہ اساتذہ کی رہنمائی اور مشوروں کو ویکم کیا جائے گا









