کیریئر کونسلنگ ایک ضروری مرحلہ
از قلم فیصل جنجوعہ
تعلیم کا بنیادی مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان کو اس کی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور معاشرتی ضروریات کے مطابق ایک کامیاب اور باوقار مستقبل فراہم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی کیریئر کے انتخاب کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اکثر طلبہ محض والدین کے دباؤ، دوستوں کی تقلید یا معاشرتی رجحانات کی بنیاد پر مضامین اور پیشوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بے شمار نوجوان اپنی صلاحیتوں کے برعکس شعبوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کیریئر کونسلنگ کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ کیریئر کونسلنگ دراصل ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے طلبہ کی ذہنی استعداد، دلچسپیوں، شخصیت اور مہارتوں کا جائزہ لے کر انہیں مناسب تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رہنمائی نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے اور انہیں مستقبل کی مشکلات سے بچاتی ہے۔ تاہم ہمارے تعلیمی نظام پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر سکولوں اور کالجوں میں کیریئر کونسلنگ کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ طلبہ کو صرف امتحانات اور نمبروں تک محدود کر دیا جاتا ہے جبکہ ان کی پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہزاروں نوجوان ایسے شعبوں میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں نہ ان کی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں چند مخصوص پیشوں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر، کو ہی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس سوچ کے باعث فنونِ لطیفہ، میڈیا، ٹیکنالوجی، کاروبار، فنی تعلیم اور دیگر بے شمار شعبے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ کیریئر کونسلنگ اس محدود سوچ کو ختم کرتی ہے اور طلبہ کو روزگار کی جدید ضروریات اور نئے مواقع سے روشناس کرواتی ہے۔ عصر حاضر میں دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی اور دیگر نئے شعبے روزگار کے منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں روایتی سوچ کے ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کیریئر کونسلنگ نوجوانوں کو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے اور انہیں مستقبل کے لیے تیار کرتی ہے۔
والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔ اگر طلبہ کو بروقت اور معیاری کیریئر کونسلنگ فراہم کی جائے تو نہ صرف انفرادی سطح پر کامیابی کے امکانات بڑھتے ہیں بلکہ معاشرہ بھی ایک ہنر مند اور پیداواری افرادی قوت حاصل کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کیریئر کونسلنگ کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک بنیادی تعلیمی ضرورت ہے۔ جو قومیں اپنے نوجوانوں کو درست رہنمائی فراہم کرتی ہیں وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، جبکہ رہنمائی سے محروم نوجوان اپنی صلاحیتوں کے باوجود منزل تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کیریئر کونسلنگ کو ہمارے تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ نوجوان اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔