جرمنی کی سرزمین سے اردو کی خوشبو: شریف اکیڈمی کی گرانقدر خدمات
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
کہتے ہیں کہ زبانیں جغرافیائی سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ جہاں جہاں اس زبان کو بولنے اور سمجھنے والے جاتے ہیں، وہ زبان وہاں اپنا گھر بنا لیتی ہے۔ اردو زبان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ برصغیر سے نکل کر یہ زبان دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے، اور دیارِ غیر میں اسے زندہ رکھنے اور پروان چڑھانے میں ان گنت محبِ اردو شخصیات اور تنظیموں کا خونِ جگر شامل ہے۔ یورپ بالخصوص جرمنی کے دل میں اردو ادب کے چراغ روشن کرنے والی ایسی ہی ایک معتبر اور متحرک تنظیم کا نام “شریف اکیڈمی جرمنی” ہے۔
سی ای او شفیق مراد کی زیر قیادت شریف اکیڈمی جرمنی محض ایک تنظیم کا نام نہیں، بلکہ یہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی ایک ایسی تحریک ہے جس نے یورپ کی سرد فضاؤں میں اردو کی تپش اور چاشنی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ اس عالمی ادبی تنظیم نے فروغِ اردو کے لیے کیا گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں:
شریف اکیڈمی نے جرمنی کی دھرتی پر اردو کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔ تنظیم کی جانب سے تواتر کے ساتھ بین الاقوامی مشاعرے، سیمینارز اور ادبی کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں، جہاں پاکستان، ہندوستان اور دنیا بھر سے نامور شعرا، ادبا اور نقاد تشریف لاتے ہیں۔ یہ تقریبات نہ صرف تارکینِ وطن کو اپنی مادری زبان سے جوڑے رکھتی ہیں، بلکہ یورپی معاشرے میں اردو کی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔
کسی بھی زبان کا مستقبل اس کے نئے لکھنے والوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ شریف اکیڈمی جرمنی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف نامور اساتذہ کرام تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے دیارِ غیر میں مقیم نوجوان نسل اور نوآموز قلم کاروں کی بھرپور سرپرستی کی ہے۔ تنظیم ان کی تخلیقات کو نکھارنے کے لیے ورکشاپس کا اہتمام کرتی ہے اور انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہاں وہ سینئرز سے سیکھ سکیں۔
ادب کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ کتاب ہے۔ انٹرنیشنل ادبی تنظیم شریف اکیڈمی جرمنی نے اردو ادب کے فروغ کے لیے اشاعتی میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تنظیم کے زیرِ اہتمام کئی اہم ادبی کتابیں، شعری مجموعے اور یادگاری مجلے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ جرائد اور کتب یورپ کی لائبریریوں تک اردو کا سرمایہ پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
شریف اکیڈمی کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ یہ اردو کو صرف اردو دان طبقے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی، بلکہ جرمن اور دیگر یورپی زبانوں کے ساتھ اس کا رشتہ استوار کر رہی ہے۔ یہ تنظیم دو مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ایوارڈز اور اعترافِ خدمات
ادب کی دنیا میں کام کرنے والوں کی پزیرائی کرنا زندہ دلی کی علامت ہے۔ شریف اکیڈمی جرمنی دنیا بھر میں اردو زبان کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبا، شعرا اور صحافیوں کو اعزامات اور ایوارڈز سے نوازتی ہے۔ یہ اعترافِ خدمات ان لوگوں کے حوصلوں کو مہمیز کرتا ہے جو خاموشی سے اردو کی خدمت میں مگن ہیں۔
المختصر،اجنبیت کے ماحول میں، جہاں نئی نسل تیزی سے مغربی زبان اور ثقافت میں ڈھل رہی ہے، شریف اکیڈمی جرمنی جیسی تنظیمیں کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ شفیق مراد کی سرپرستی میں یہ تنظیم جرمنی میں اردو زبان کا ایک ایسا قلعہ بن چکی ہے جو اپنی جڑوں سے کٹے ہوئے لوگوں کو ان کی مٹی کی خوشبو کا احساس دلاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر ایسی مخلص تنظیموں کی بھرپور طریقے سے پزیرائی کی جائے تاکہ اردو کا یہ کارواں یوں ہی رواں دواں رہے اور مغرب کے افق پر اردو کا سورج ہمیشہ چمکتا رہے۔ سی ای او شفیق مراد اور شریف اکیڈمی جرمنی کی پوری ٹیم بلاشبہ اس شاندار علمی و ادبی جہاد پر مبارکباد اور تحسین کی حقدار ہے۔