جھنگ: سی ای او ہیلتھ پر لیڈی سٹاف ممبر کا مبینہ ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سنگین الزام، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو درخواست ارسال
جھنگ (رپورٹ): ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال جھنگ کی سینئر سٹاف ممبر نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر یونس منیر کے خلاف مبینہ طور پر ہراساں کرنے، غیر اخلاقی رویہ اپنانے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں تعینات سینئر سٹاف ممبر میمونہ اللہ دتہ نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، لاہور کو ایک تحریری درخواست ارسال کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر یونس منیر انہیں مبینہ طور پر ذہنی اور پیشہ ورانہ طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔
درخواست میں عائد کیے گئے اہم الزامات:
رہائش گاہ پر بلانے کا دباؤ: درخواست گزار کے مطابق سی ای او ہیلتھ نے اپنے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انہیں زبردستی اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور وہاں رات گزارنے کے لیے شدید دباؤ (Force) ڈالا۔
دھمکیاں اور فون کالز: خاتون ملازم کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی بات کو ماننے سے صاف انکار کیا، تو انہیں مختلف نامعلوم نمبروں سے مسلسل کالز کر کے سنگین دھمکیاں دینا شروع کر دی گئیں۔
نوکری سے نکلوانے کی دھمکی: درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ افسر کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ “میں تجھے نہیں چھوڑوں گا، تم پورے پنجاب میں کہیں نوکری کر کے دکھانا۔”
خاتون ملازم نے اپنی درخواست میں درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسر کے اس انتہائی نا مناسب، ہراساں کن اور معاندانہ رویے کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور موجودہ صورتحال میں کسی بھی خاتون ملازم کے لیے عزتِ نفس کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینا محال ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق (Conduct Rules) کی کھلی خلاف ورزی اور محکمہ صحت کے مقدس پیشے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
فوری انکوائری کا مطالبہ:
خاتون سٹاف ممبر نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے پرزور التماس کی ہے کہ:
اس سنگین معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔
مذکورہ افسر کے خلاف ایک فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری تشکیل دی جائے۔
قصوروار پائے جانے پر موصوف کے خلاف سخت محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ محکمہ صحت میں کام کرنے والی دیگر خواتین ملازمین کو تحفظ کا احساس ہو اور آئندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو سکے۔: سی ای او ہیلتھ پر لیڈی سٹاف ممبر کا مبینہ ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سنگین الزام، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو درخواست ارسال
جھنگ (رپورٹ): ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال جھنگ کی سینئر سٹاف ممبر نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر یونس منیر کے خلاف مبینہ طور پر ہراساں کرنے، غیر اخلاقی رویہ اپنانے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ میں تعینات سینئر سٹاف ممبر میمونہ اللہ دتہ نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، لاہور کو ایک تحریری درخواست ارسال کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر یونس منیر انہیں مبینہ طور پر ذہنی اور پیشہ ورانہ طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔
درخواست میں عائد کیے گئے اہم الزامات:
رہائش گاہ پر بلانے کا دباؤ: درخواست گزار کے مطابق سی ای او ہیلتھ نے اپنے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انہیں زبردستی اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور وہاں رات گزارنے کے لیے شدید دباؤ (Force) ڈالا۔
دھمکیاں اور فون کالز: خاتون ملازم کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی بات کو ماننے سے صاف انکار کیا، تو انہیں مختلف نامعلوم نمبروں سے مسلسل کالز کر کے سنگین دھمکیاں دینا شروع کر دی گئیں۔
نوکری سے نکلوانے کی دھمکی: درخواست میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ مذکورہ افسر کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ “میں تجھے نہیں چھوڑوں گا، تم پورے پنجاب میں کہیں نوکری کر کے دکھانا۔”
خاتون ملازم نے اپنی درخواست میں درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسر کے اس انتہائی نا مناسب، ہراساں کن اور معاندانہ رویے کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور موجودہ صورتحال میں کسی بھی خاتون ملازم کے لیے عزتِ نفس کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینا محال ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق (Conduct Rules) کی کھلی خلاف ورزی اور محکمہ صحت کے مقدس پیشے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
فوری انکوائری کا مطالبہ:
خاتون سٹاف ممبر نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب سے پرزور التماس کی ہے کہ:
اس سنگین معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔
مذکورہ افسر کے خلاف ایک فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری تشکیل دی جائے۔
قصوروار پائے جانے پر موصوف کے خلاف سخت محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ محکمہ صحت میں کام کرنے والی دیگر خواتین ملازمین کو تحفظ کا احساس ہو اور آئندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو سکے۔
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: سچ و حق پر قدغن قرآن کی مخالفت ھے* *کالمکار: جاوید صدیقی*
ہارون آباد میں عالمی یومِ انسدادِ منشیات کے موقع پر هاتف ویلفیئر سوسائٹی نے شہر بھر میں آگاہی مہم چلا کر نوجوان نسل کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنے کا پیغام دیا۔
بالکل ملک بھر کی طرح ہارون آباد میں بھی 10 محرم الحرام یومِ عاشور کا مرکزی ماتمی جلوس مرکزی امام
ایس پی انوسٹی گیشن بہاولنگر فیاض احمد سنپال کے تبادلے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفس میں ایک پروقار الوداعی تقریب
بہاولنگر: تھانہ فقیر والی کی حدود میں ماں اور بیٹے پر تشدد کا معاملہ