15

میرپورخاص (رپورٹ شاھد میمن) سیف ہاؤس عمرکوٹ کی ملازمہ زرینہ قمبرانی کی بحالی اور ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق

میرپورخاص (رپورٹ شاھد میمن) سیف ہاؤس عمرکوٹ کی ملازمہ زرینہ قمبرانی کی بحالی اور ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ کے سیف ہاؤس کی ملازمہ زرینہ قمبرانی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور ملازمت سے فارغ کیے جانے کے خلاف سندھ مزدور اتحاد، خواتین کارکنوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ، کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد راجپوت کے خلاف الزامات کی شفاف تحقیقات کر کے قانونی کارروائی کی جائے اور زرینہ قمبرانی کو فوری طور پر ملازمت پر بحال کیا جائے اس موقع پر متاثرہ ملازمہ زرینہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ چار سال سے سیف ہاؤس میں فرائض انجام دے رہی تھیں اور ہمیشہ دیانتداری سے کام کیا ان کا الزام تھا کہ نومبر 2025 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد راجپوت کی تعیناتی کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صرف یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ سیف ہاؤس جو خواتین کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ادارہ ہے وہاں غیر متعلقہ مردوں کی آمدورفت نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا زرینہ کے مطابق انہیں وارننگ لیٹر جاری کیا گیا جس کا انہوں نے تحریری جواب دیا تاہم بعد ازاں انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ وہ ایک بیوہ خاتون ہیں اور ان کے کم عمر بچے ہیں اس لیے انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے ملازمت پر بحال کیا جائے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر افراد کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں کرنا اور ان کے روزگار کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر شکایات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک وسیع کیا جائے گا سندھ مزدور اتحاد اور دیگر مقررین نے بھی زرینہ کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیوہ اور محنت کش خاتون کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر زرینہ قمبرانی کو بحال نہ کیا گیا اور ان کے تحفظات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ مزید سخت احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں