13

روہڑی کا معروف نیوی پارک زبوں حالی کا شکار، شہریوں کا فوری بحالی کا مطالبہ

روہڑی کا معروف نیوی پارک زبوں حالی کا شکار، شہریوں کا فوری بحالی کا مطالبہ

سکھر/روہڑی(بیورورپورٹ. سید نصیر حسین زیدی دریائے سندھ کے خوبصورت کنارے، تاریخی لینس ڈاؤن پل کے قریب سکھر۔روہڑی شاہراہ کے ساتھ واقع روہڑی کا معروف نیوی پارک عدم توجہی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بتدریج زبوں حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ایک زمانے میں سرسبز و شاداب ماحول، گھنے درختوں، خوبصورت سبزہ زاروں اور متنوع تفریحی سہولیات کے باعث شہریوں کی توجہ کا مرکز رہنے والا یہ پارک آج اپنی اجڑتی ہوئی حالت کے سبب عوامی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔شہریوں کے مطابق نیوی پارک روہڑی کا سب سے بڑا عوامی تفریحی مرکز ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد، جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل ہیں، تفریح، ورزش، چہل قدمی اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے پارکس شہری زندگی میں ذہنی سکون، جسمانی صحت، ماحولیاتی توازن اور سماجی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم پارک کی موجودہ خستہ حالی اس کردار کو شدید متاثر کر رہی ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پارک کے وسیع سبزہ زاروں میں پھیلی گھاس جگہ جگہ سے سوکھ چکی ہے جبکہ حالیہ آندھیوں، طوفانوں اور بارشوں کے باعث متعدد درخت اور پودے بھی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ سبزے کی کمی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے پارک کی خوبصورتی اور کشش میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس پر آنے والے افراد مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔شہریوں نے بتایا کہ پارک میں بچوں کے لیے نصب جھولے، سلائیڈز اور دیگر تفریحی آلات بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کئی جھولے ناقابل استعمال ہو چکے ہیں جبکہ بعض خطرناک حالت میں موجود ہیں، جس سے بچوں کے زخمی ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے قبل ان سہولیات کی فوری مرمت اور تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔نیوی پارک کی ایک اہم خصوصیت اس کا واکنگ ٹریک ہے، جہاں روزانہ صبح و شام بڑی تعداد میں شہری ورزش اور چہل قدمی کرتے ہیں۔ خصوصاً خواتین کے لیے یہ روہڑی کا واحد بڑا عوامی پارک تصور کیا جاتا ہے جہاں وہ نسبتاً محفوظ ماحول میں صحت بخش سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ تاہم پارک کی موجودہ بدحالی خواتین سمیت دیگر شہریوں کی تفریحی اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔شہریوں نے پارک کے اطراف قائم حفاظتی دیوار کی خستہ حالی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق دیوار متعدد مقامات سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث نہ صرف پارک کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ سیکیورٹی کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے آوارہ جانور پارک میں داخل ہو کر سبزہ، پودوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا رہے ہیں جبکہ یہ صورتحال بچوں اور دیگر آنے والے افراد کی حفاظت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔علاوہ ازیں پارک میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات، روشنی کی کمی، بیٹھنے کے لیے بنائی گئی جگہوں کی خستہ حالت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بھی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شام کے اوقات میں مناسب روشنی نہ ہونے کے باعث نہ صرف پارک کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارکس کسی بھی شہر کی سماجی، ماحولیاتی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ یہ مقامات شہریوں کی جسمانی و ذہنی صحت، خاندانی سرگرمیوں، ماحولیات کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ نیوی پارک کی موجودہ بدحالی درحقیقت روہڑی کے عوام سے ایک صحت مند، محفوظ اور معیاری تفریحی ماحول چھیننے کے مترادف ہے۔اہلِ روہڑی، سماجی تنظیموں، خواتین، نوجوانوں اور بزرگ شہریوں نے ضلع سکھر اور تعلقہ روہڑی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نیوی پارک کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی، سبزہ کاری، درختوں کی دیکھ بھال، حفاظتی دیوار کی مرمت، بچوں کے تفریحی آلات کی تبدیلی، صفائی ستھرائی، آرائشی لائٹس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کا یہ اہم عوامی تفریحی مرکز دوبارہ اپنی سابقہ رونقیں بحال کر سکے اور شہریوں کو صحت مند، محفوظ اور خوشگوار ماحول میسر آ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں