سکھر سے بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
*بجلی کا بحران اور سکھر کی سسکتی معیشت۔*
تحریر؛ زوہیب شیخ۔
سندھ کا تیسرا بڑا شہر اور تجارتی مرکز سکھر، ان دنوں شدید ترین گرمی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے بدترین بحران کی لپیٹ میں ہے جس نے یہاں کے لاکھوں شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ کہنے کو تو سکھر ایک جدید شہر ہے، لیکن عملی طور پر اس وقت یہاں تمام تر سماجی، گھریلو اور معاشی مسائل کی بنیادی وجہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری کا بے لگام ہونا ہے۔
بجلی کی مسلسل عدم دستیابی نے شہر کے پورے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے کسی قدیم دور میں دھکیل دیا گیا ہو۔
لوڈشیڈنگ کا یہ عذاب محض اندھیرے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات ہر گھر پر انتہائی ہولناک شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کے باعث پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، تپتی گرمی میں انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز غائب ہو جاتے ہیں جس سے مواصلاتی رابطہ کٹ جاتا ہے، اور طویل دورانیے کے تعطل کی وجہ سے گھریلو یو پی ایس کی بیٹریاں بھی جواب دے چکی ہیں۔ اس حبس اور گرمی کے موسم میں خواتین کے لیے باورچی خانے میں کھانا پکانا ایک عذاب بن چکا ہے، بچوں کی پڑھائی کا ناقابلِ تلافی حرج ہو رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر ہمارے بزرگ، جو مختلف بیماریوں کا شکار ہیں، وہ گھروں میں محصور ہو کر شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس سنگین گھریلو بحران سے ہٹ کر اگر معاشی پہلو پر نظر دوڑائی جائے تو سکھر کی تاجر برادری اور مقامی معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ چھوٹے ریڑھی بان اور دکاندار سے لے کر بڑے صنعت کار اور تاجر تک، ہر طرح کا کاروبار بجلی کے اس بحران کے باعث بدحالی کا شکار ہے۔جب مارکیٹوں میں گھنٹوں اندھیرا اور حبس رہے گا تو گاہکوں کا آنا ناممکن ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔
اس بدترین صورتحال میں اپنے روزگار کو زبردستی چلانے کے لیے تاجروں کے لیے جنریٹرز کے بھاری اخراجات الگ سے ایک بڑا مالی عذاب بن چکے ہیں۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، اور ایسے میں روزانہ کئی کئی گھنٹے جنریٹر چلانے کے اخراجات نے منافع کا تصور ہی ختم کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تاجروں کا اصل سرمایہ بھی ڈوب رہا ہے اور وہ دکانوں کے کرائے، بھاری ٹیکسز اور اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔کاروبار بند ہو رہے ہیں اور بیروزگاری کا ایک نیا طوفان جنم لے رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ دوسری طرف دیکھا جائے تو بجلی چوری کا ایک منظم اور وسیع سلسلہ جاری ہے، جو متعلقہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی (سیپکو) کی کارکردگی اور مانیٹرنگ سسٹم پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کی طاقت سے بڑا کوئی ڈنڈا نہیں ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عام عوام، محکمے کی مبینہ چشم پوشی، غفلت یا اندرونی کمزوریوں کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر سرِعام اور دیدہ دلیری سے بجلی چوری کر لیں؟ سکھر کے متعدد علاقوں میں چوری کی اس مبینہ کھلی چھوٹ کا سب سے افسوسناک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ اس کا عذاب ان قانون پسند شہریوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے جو اپنا پورا بل بروقت اور ایمانداری سے ادا کرتے ہیں۔
یہ سراسر ناانصافی ہے کہ انتظامیہ اپنے لائن لاسز اور بجلی کے ضیاع کا خسارہ پورا کرنے کے لیے ان صارفین کے علاقوں میں بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کر دیتی ہے جو باقاعدگی سے بل بھرتے ہیں۔ گویا ایمانداری کی سزا ان شہریوں کو طویل لوڈشیڈنگ کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ جب کسی بھی نظام میں قانون پر سختی سے عمل درآمد نہ ہو اور چور و چوکیدار کی لکیر دھندلا جائے، تو وہاں جائز حقوق پامال ہونا فطری بات ہے۔
سکھر اس وقت بلا کی گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت انسان کو جھلسا دینے کے قریب پہنچ جاتا ہے، لیکن انتظامیہ کی نااہلی، ناقص حکمتِ عملی اور بجلی چوری پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے معصوم عوام اور تاجر اس جہنم نما عذاب کو بھگتنے پر مجبور ہیں۔ جب زمینی قانون مظلوم کو ریلیف دینے میں ناکام ہو جائے، تو عوام کے پاس پرامن احتجاج، قانون کے دائرے میں رہ کر آواز اٹھانے اور خدا کی عدالت میں فریاد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ وزارتِ توانائی اور اعلیٰ حکام سکھر کی اس ابتر صورتحال کا فوری اور سخت نوٹس لیں۔ بجلی چوری میں ملوث عناصر اور ان کی پشت پناہی کرنے والے کالی بھیڑوں کے خلاف بلا تفریق گرینڈ آپریشن کیا جائے تاکہ بل ادا کرنے والے معصوم شہریوں اور تاجروں کو اس ذہنی، جسمانی اور معاشی اذیت سے مستقل نجات مل سکے۔ اگر اب بھی اس ناسور کا علاج نہ کیا گیا تو سکھر کا معاشی پہیہ مکمل طور پر جام ہو جائے گا، جس کا خمیازہ پورے صوبے کو بھگتنا پڑے گا۔